مظفرآباد میں بڑا آپریشن، کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی سے جڑے ’را‘ کے 5 دہشتگرد گرفتار، خودکار ہتھیار، گرینیڈز اور حساس نقشے برآمد

مظفرآباد میں بڑا آپریشن، کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی سے جڑے ’را‘ کے 5 دہشتگرد گرفتار، خودکار ہتھیار، گرینیڈز اور حساس نقشے برآمد

آزاد جموں کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلیجنس ایجنسیوں نے مشترکہ طور پر ایک انتہائی اہم اور بڑے نیٹ ورک کا سراغ لگاتے ملک دشمن قوتوں کی ہولناک سازش کو ناکام بنا دیا ہے۔

 حساس اداروں نے دارالحکومت کے گنجان آباد علاقے ’چہلہ‘ میں سراغ رساں معلومات کی بنیاد پر ایک انتہائی کامیاب ٹارگٹڈ آپریشن سرانجام دیا، جس کے نتیجے میں دشمن ملک کی خفیہ ایجنسی کے لیے کام کرنے والے 5 انتہائی خطرناک مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ملزمان کے قبضے سے ڈیجیٹل آلات، حساس مقامات کے نقشے اور بھاری مقدار میں جنگی اسلحہ برآمد ہوا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق چھاپے کے دوران پہلے مرحلے میں ملزمان کو حراست میں لے کر ان کے قبضے سے متعدد لیپ ٹاپ، اسمارٹ فونز اور دیگر جدید مواصلاتی آلات (کمیونیکیشن ڈیوائسز) برآمد کی گئیں۔

یہ بھی پڑھیں:میرپور آزاد کشمیر میں پولیس نے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کا بڑا منصوبہ ناکام بنادیا، 4 افراد گرفتار، دنگےفساد کے لیے خطرناک سامان بھی برآمد

ماہرین کی جانب سے ان ڈیجیٹل آلات کی ابتدائی اسکریننگ کے دوران ہی چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے، جن میں مشکوک بین الاقوامی روابط اور پاکستان کی ریاستی سلامتی کے خلاف حساس نوعیت کا مواد پایا گیا۔

دورانِ تفتیش گرفتار نیٹ ورک کے ایک کلیدی ملزم کی نشاندہی پر فورسز نے خفیہ ٹھکانے پر چھاپہ مار کر اسلحہ کا ایک بڑا ذخیرہ برآمد کیا، جس میں 7 خودکار جدید ہتھیار، متعدد ہینڈ گرینیڈز (دستی بم) اور بڑی مقدار میں لائیو ایمونیشن (جنگی سامان) شامل ہے۔

حساس تنصیبات پر حملوں کا منصوبہ ناکام

ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ گرفتار تخریب کاروں کے خفیہ ٹھکانے سے آزاد کشمیر اور پاکستان کی انتہائی حساس عسکری و سول تنصیبات کے تفصیلی نقشے، مبینہ دہشتگردانہ حملوں کے تحریری منصوبے، تصاویر اور دیگر ممنوعہ ریکارڈ بھی ملا ہے۔

سب سے اہم اور سنگین انکشاف یہ سامنے آیا ہے کہ ان ملزمان کے ‘دشمن ملک کی خفیہ ایجنسی‘ (را) کے ساتھ باقاعدہ روابط تھے، اور انہیں سرحد پار سے براہِ راست ٹاسک دیے جا رہے تھے، جن کے ٹھوس شواہد اب باقاعدہ تحقیقات کا حصہ بن چکے ہیں۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان تمام برآمد شدہ لیپ ٹاپس اور فونز کو تکنیکی اور فرانزک لیبارٹری منتقل کر دیا ہے تاکہ ان کے ممکنہ سہولت کاروں، مالی معاونت (ٹیریر فنڈنگ) کے مقامی ذرائع اور آزاد کشمیر میں پھیلے ان کے وسیع نیٹ ورک کا مکمل سراغ لگایا جا سکے۔

حکام کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی اس تیز رفتار اور بروقت کارروائی نے دارالحکومت کو ایک بڑی تباہی، حساس تنصیبات کو نقصان پہنچانے اور عوامی سلامتی پر آنے والے ممکنہ خطرے سے محفوظ رکھ لیا ہے۔

مزید پڑھیں:کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے ممبر نے گرفتاری دیدی، عوام سے احتجاج کا حصہ نہ بننے کی اپیل

سیکیورٹی فورسز نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستی سلامتی، امنِ عامہ اور قومی مفادات کے خلاف کسی بھی قسم کی ملک دشمن سرگرمی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور ایسے تمام عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

اس موقع پر سیکیورٹی اداروں نے عوام سے بھی پرزور اپیل کی ہے کہ وہ اپنے اردگرد نظر رکھیں اور کسی بھی مشکوک شخص یا سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ اداروں کو دیں تاکہ دشمن کے عزائم کو خاک میں ملایا جا سکے۔

Related Articles