انٹارکٹیکا کی برف کے نیچے کروڑوں سال پرانی محفوظ دنیا دریافت

انٹارکٹیکا کی برف کے نیچے کروڑوں سال پرانی محفوظ دنیا دریافت

سائنس دانوں نے انٹارکٹیکا کی تقریباً ایک میل (1.6 کلومیٹر) موٹی برف کے نیچے ایک ایسی قدیم زمینی ساخت دریافت کی ہے جو کروڑوں سال سے تقریباً اپنی اصل حالت میں محفوظ ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ زمین اس دور کی یادگار ہے جب انٹارکٹیکا برف سے نہیں ڈھکا تھا۔

یہ دریافت کسی ایک تحقیق کا نتیجہ نہیں بلکہ 2023 سے شروع ہونے والی کئی سائنسی تحقیقات اور 2026 تک جاری رہنے والی جدید ریڈار اور فضائی سروے پر مبنی مطالعات کا حاصل ہے جن کے ذریعے برف کے نیچے موجود زمین کا نقشہ تیار کیا گیا۔

 یہ بھی پڑھیں :کیکڑوں کے لیے پل ،آسٹریلیا کا منفرد منصوبہ توجہ کا مرکز بن گیا

تحقیق کے مطابق ڈرہم یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے تقریباً 300 کلومیٹر پر پھیلے ایک قدیم منظرنامے کی نشاندہی کی، جس میں وادیاں، پہاڑی سلسلے اور قدیم دریاؤں سے بننے والی ساختیں شامل ہیں۔ یہ تمام جغرافیائی خدوخال اس زمانے کے ہیں جب تقریباً 8 کروڑ سال پہلے مشرقی انٹارکٹیکا اور آسٹریلیا ایک دوسرے سے الگ ہو رہے تھے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ برف کے نیچے آج کوئی سرسبز جنگل یا بہتے دریا موجود نہیں، بلکہ یہ ایک مکمل طور پر منجمد اور خشک قدیم زمین ہے، جو کروڑوں برس سے شدید سردی کی وجہ سے محفوظ چلی آ رہی ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق برف کی تہہ کا نچلا حصہ اتنا ٹھنڈا رہا کہ اس نے زمین کو گھسنے یا کٹاؤ سے بچائے رکھا، بالکل اسی طرح جیسے فریزر میں رکھی اشیا طویل عرصے تک محفوظ رہتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :سمندروں میں 2 کروڑ ٹن سونا موجود، پھر بھی انسان اسے کیوں نہیں نکال سکتا؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت صرف سائنسی تجسس تک محدود نہیں بلکہ موسمیاتی تحقیق کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔ ان کے مطابق برف کے نیچے موجود یہ ہموار قدیم زمین انٹارکٹیکا کی برف کی رفتار کو متاثر کر سکتی ہے اور یہ سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے کہ مستقبل میں عالمی درجہ حرارت بڑھنے کے ساتھ برفانی چادر کس رفتار سے سمندر کی جانب سرکے گی۔

محققین کا کہنا ہے کہ اس پوشیدہ زمینی ساخت کو موسمیاتی ماڈلز میں شامل کرنا مستقبل میں سمندری سطح میں اضافے اور عالمی موسمی تبدیلیوں کی زیادہ درست پیش گوئی کے لیے ضروری ہوگا۔

editor

Related Articles