عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ کمی کے بعد پاکستان میں بھی پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا امکان پیدا ہوگیا ہے اگر موجودہ عالمی رجحان برقرار رہا اور حکومت نے پیٹرولیم لیوی میں اضافہ نہ کیا تو عوام کو آئندہ قیمتوں میں خاطر خواہ ریلیف مل سکتا ہے۔
بین الاقوامی منڈی میں برینٹ کروڈ آئل کی قیمت اس وقت تقریباً 85 ڈالر فی بیرل کے قریب ٹریڈ کر رہی ہے جو حالیہ ہفتوں کی بلند ترین سطح کے مقابلے میں کم ہے۔ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں نرمی سے پاکستان کی درآمدی لاگت بھی کم ہونے کی توقع کی جا رہی ہے جس کے اثرات آئندہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر پڑ سکتے ہیں۔
اوگرا کے ذرائع کے مطابق اگر آج تک عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں موجودہ سطح کے آس پاس رہیں ڈالر مستحکم رہے اور حکومت موجودہ شرح پیٹرولیم لیوی برقرار رکھے تو پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 5 سے 6 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 6 سے 8 روپے فی لیٹر تک کمی کا امکان ہے اگر عالمی مارکیٹ میں مزید کمی ریکارڈ ہوئی تو ریلیف اس سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔
توانائی ماہرین کے مطابق پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں صرف خام تیل کی قیمت کو دیکھ کر مقرر نہیں کی جاتیں بلکہ اس کے لیے ایک باقاعدہ فارمولا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس فارمولے میں عرب گلف/پلاٹس (Platts) کے مطابق ریفائنڈ پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی اوسط قیمت ڈالر کے مقابلے میں روپے کی شرح تبادلہ پیٹرولیم لیوی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ڈیلرز کے مارجن ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن (IFEM) اور دیگر اخراجات کو بھی شامل کیا جاتا ہے۔
دوسری جانب یہ امکان بھی موجود ہے کہ حکومت ریلیف کا کچھ حصہ پیٹرولیم لیوی میں اضافے کے ذریعے ایڈجسٹ کر لے۔ ایسی صورت میں عالمی منڈی میں نمایاں کمی کے باوجود عوام کو پمپ پر محدود ریلیف مل سکتا ہے، جیسا کہ ماضی میں بھی کئی مرتبہ دیکھنے میں آیا۔
ذرائع کے مطابق اوگرا عالمی قیمتوں، شرح مبادلہ اور دیگر مالیاتی عوامل کا جائزہ لینے کے بعد اپنی سفارشات وفاقی حکومت کو بھجوائے گا، جس کے بعد نئی قیمتوں کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔
توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ عالمی رجحان برقرار رہا تو آئندہ قیمتوں کے اعلان میں عوام کو کئی ہفتوں بعد ایک بار پھر ریلیف ملنے کا قوی امکان ہے تاہم آخری فیصلہ حکومت کی ٹیکس اور لیوی پالیسی پر منحصر ہوگ