سوئٹزرلینڈ میں پاکستان اور قطر کی ثالثی میں ہونے والے چار فریقی مذاکرات کا اہم مرحلہ مکمل ہونے کے بعد ایرانی وفد اپنے ملک واپس روانہ ہو گیا ہے جبکہ ایرانی وفد کی کچھ اراکین اب بھی برگن اسٹاک میں موجود ہیں ،مشترکہ اعلامیہ جلد جاری کیے جانے کا امکان ہے۔
دوسری جانب ایک امریکی سفارتکار نے دعویٰ کیا ہے کہ بات چیت کے دوران آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے معاملے پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جسے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :امریکا اور ایران کے نمائندے مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ روانہ، محسن نقوی تہران پہنچ گئے
اس سے قبل امریکی صدر کی جانب سے دی گئی دھمکیوں پر ایرانی وفد نے امریکی نمائندوں کے سامنے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا تھا جس کے باعث مذاکراتی ماحول متاثر ہوا۔
امریکی میڈیا کے مطابق مذاکرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے بلکہ صرف تعطل کا شکار ہیں اور رابطوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں :پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان تکنیکی مذاکرات شروع

