ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کل پاکستان کے مختصر دورے کا امکان ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق ایرانی صدر کے دورۂ پاکستان کے دوران ان کی سول اور فوجی قیادت سے ملاقات کا امکان ہے۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ ایران امریکا جنگ کے دوران پاکستان کی جانب سے ادا کیے گئے کردار اور سفارتی کوششوں پر اظہارِ تشکر کے لیے ایرانی صدر پاکستان کا دورۂ کر رہے ہیں۔
تاہم اس حوالے سے ایرانی صدر کے دورے سے متعلق پاکستان یا ایران کا سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا ہے۔
خیال رہے کہ ایرانی صدر کے دورۂ پاکستان سے قبل سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات ہوئے جہاں بات چیت کا پہلا دور کامیابی سے پورا ہوا۔
اس اجلاس کو ’لیک لوسرن سمٹ‘ کا نام دیا گیا، جس میں امریکا، ایران، پاکستان اور قطر کے بڑے رہنماؤں نے تبادلہ خیال کیا اور خطے میں جاری کشیدگی اور لڑائی کو ختم کرنے کے لیے کئی بڑے فیصلے کیے۔
اس کے ساتھ ساتھ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ’ویری گُڈ، وی لو پاکستان‘ کہہ کر پاکستان کے سفارتی کردار کا اعتراف کیا تھا ، برگن اسٹاک میں ایران سے مذاکرات کے لیے پہنچنے والے امریکی نائب صدر نے صحافی کے سوال پر پُرجوش انداز میں پاکستان کے سفارتی کردار کا اعتراف کیا تھا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق دوسری جانب معزز مہمان کے شاندار استقبال کے لیے اسلام آباد کے ریڈ زون میں تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں ، سیکیورٹی کے حوالے سے بھی اسلام آباد میں انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے چند روز قبل ایرانی صدر مسعود پزیشکیان کو ٹیلیفونک گفتگو یا سفارتی رابطے کے دوران دورۂ پاکستان کی باقاعدہ دعوت دی تھی، جس انھوں نے قبول کرلیا تھا۔