قاضی فائز عیسیٰ سے منسوب وائرل ویڈیو جعلی قرار، اے ایف پی کی رپورٹ نے پی ٹی آئی کا پروپیگنڈابے نقاب کردیا

قاضی فائز عیسیٰ سے منسوب وائرل ویڈیو جعلی قرار، اے ایف پی کی رپورٹ نے پی ٹی آئی کا پروپیگنڈابے نقاب کردیا

سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے منسوب ایک وائرل ویڈیو، جس میں انہیں عمران خان سے متعلق عدالتی فیصلوں پر مبینہ اعتراف کرتے ہوئے دکھایا گیا،اے ایف پی کی فیکٹ چیک کے رپورٹ مطابق ڈیجیٹل طور پر تبدیل شدہ قرار دی گئی ہے، جبکہ ویڈیو میں شامل آڈیو کو بھی مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کیے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس اور فیس بک پر گردش کرنے والی ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا کہ قاضی فائز عیسیٰ نے اعتراف کیا کہ بطور چیف جسٹس وہ آزادانہ فیصلے کرنے کے مکمل اختیارات نہیں رکھتے تھے اور عمران خان سے متعلق مقدمات میں ان کا کردار محدود تھا۔ ویڈیو پر یہ متن بھی شامل کیا گیا کہ ان کی عمران خان سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں تھی بلکہ “نظام” ان کے خلاف تھا۔

تاہم فیکٹ چیک میں بتایا گیا کہ یہ دعویٰ درست نہیں۔ ویڈیو دراصل اکتوبر 2022 میں آکسفورڈ یونین میں قاضی فائز عیسیٰ کے خطاب اور سوال و جواب کے سیشن سے لی گئی ہے، جب وہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نہیں بلکہ ایک جج تھے۔ اصل ویڈیو میں انہوں نے کہیں بھی یہ نہیں کہا کہ عدلیہ نے عمران خان کے خلاف جانبدارانہ فیصلے کیے یا وہ آزادانہ فیصلے کرنے سے قاصر تھے۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان اور بیرسٹر سیف کی مجوزہ ملاقات کی خبریں حقائق کے منافی اور بے بنیاد قرار

رپورٹ کے مطابق وائرل کلپ میں شامل بعض جملے بعد میں ڈیجیٹل طور پر شامل کیے گئے۔ ڈیجیٹل فرانزک ادارے GetReal Labs نے بھی اپنی جانچ میں کہا کہ ویڈیو کی آڈیو غالباً مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی گئی ہے، کیونکہ بولنے والے کے ہونٹوں کی حرکت اور آواز میں واضح مطابقت موجود نہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ قاضی فائز عیسیٰ نے 17 ستمبر 2023 کو چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالا تھا، جبکہ وائرل ویڈیو اس سے تقریباً ایک سال قبل ریکارڈ کی گئی تھی۔ اس لیے ویڈیو میں ان سے منسوب کیے گئے دعوے اصل انٹرویو کا حصہ نہیں ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف اور اس کے حامی ماضی میں بھی سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے دور میں آنے والے مختلف عدالتی فیصلوں پر تنقید کرتے رہے ہیں، تاہم زیر گردش اس ویڈیو کے حوالے سے کیے گئے دعوؤں کی آزادانہ فیکٹ چیکنگ میں تصدیق نہیں ہو سکی اور انہیں گمراہ کن قرار دیا گیا ہے۔

Related Articles