1سیکنڈ میں 20 بار چونچ مارنے والا پرندہ، پھر بھی نہ درد نہ چوٹ، آخر کیسے؟

1سیکنڈ میں 20 بار چونچ مارنے والا پرندہ، پھر بھی نہ درد نہ چوٹ، آخر کیسے؟

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ووڈ پیکر مسلسل درختوں پر زور دار چونچ مارنے کے باوجود دماغی چوٹ سے کیسے محفوظ رہتا ہے؟ یہ حیران کن صلاحیت دراصل قدرت کی ایک منفرد تخلیق ہے، جس نے اس پرندے کو ایک قدرتی شاک ابزوربنگ سسٹم عطا کیا ہے۔

ماہرین کے مطابق ووڈ پیکر ایک سیکنڈ میں 20 مرتبہ تک درخت پر چونچ مار سکتا ہے۔ اتنی شدید ضربیں کسی بھی دوسرے جانور یا انسان کے لیے خطرناک دماغی چوٹ کا باعث بن سکتی ہیں، مگر ووڈ پیکر اپنی منفرد جسمانی ساخت کی بدولت اس سے محفوظ رہتا ہے۔

اس کی سب سے حیران کن خصوصیت اس کی زبان ہے، جو ایک لمبی اور لچکدار ہڈی ہائیوئیڈ بون سے جڑی ہوتی ہے۔ یہ ہڈی کھوپڑی کے پچھلے حصے سے گھومتے ہوئے سر کے اوپر سے گزرتی ہے اور آنکھوں کے قریب تک پہنچتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:تھکن دور کرنے کی کوشش زندگی بھر کا پچھتاوا بن گئی

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ منفرد ساخت ایک قدرتی حفاظتی بیلٹ کی طرح کام کرتی ہے، جو ہر ضرب سے پیدا ہونے والے دباؤ کو پورے سر میں تقسیم کر دیتی ہے، جس سے دماغ پر براہِ راست اثر نہیں پڑتا۔اس کے علاوہ ووڈ پیکر کی کھوپڑی مضبوط ہونے کے ساتھ اندر سے اسفنج نما ساخت رکھتی ہے، جو جھٹکوں اور کمپن کو جذب کرنے میں مدد دیتی ہے۔

دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ اس کی اوپری اور نچلی چونچ کی لمبائی ایک جیسی نہیں ہوتی، جس کی وجہ سے ضرب کا دباؤ دماغ کے بجائے چونچ اور کھوپڑی کے دوسرے حصوں میں منتقل ہو جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :پرانی تاریخی دیوار کا 8 برس تک علاج، شاہی قلعے کا منفرد منصوبہ مکمل

ماہرین کے مطابق ووڈ پیکر کا دماغ بھی کھوپڑی کے اندر بہت مضبوطی سے جڑا ہوتا ہے اور اس کے اردگرد سیال مادہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے، جس سے دماغ جھٹکوں کے دوران اپنی جگہ سے حرکت نہیں کرتا۔

مزید یہ کہ ہر بار چونچ مارنے سے قبل اس کی ایک اضافی شفاف پلک بند ہو جاتی ہے، جو آنکھوں کو لکڑی کے ذرات اور گردوغبار سے محفوظ رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:جھیل کنارے بنا دنیا کا دیوہیکل نقشہ، لوگ پیدل گھومنے آتے ہیں

ان تمام قدرتی خصوصیات کی بدولت ووڈ پیکر روزانہ ہزاروں مرتبہ درخت پر چونچ مارتا ہے، لیکن اس کے دماغ، آنکھوں اور اعصابی نظام کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، جو قدرت کے حیرت انگیز شاہکاروں میں سے ایک ہے۔

editor

Related Articles