امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک بھر میں پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مہنگائی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے فیول ریٹیلرز اور پیٹرولیم کمپنیوں کو سخت ترین وارننگ جاری کی ہے۔
انہوں نے پیٹرولیم کمپنیوں کو فوری طور پر قیمتیں کم کرنے کا حکم دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ عوام سے ناجائز منافع خوری کا سلسلہ بند کیا جائے، بصورتِ دیگر ان کمپنیوں کو ‘بڑے مسائل’ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
صدر کے اس دوٹوک اور سخت بیان نے امریکی تیل کی مارکیٹ، ریٹیلرز اور معاشی حلقوں میں بڑی ہلچل مچا دی ہے۔
’ٹروتھ سوشل‘ پر صدر کا تہلکہ خیز پیغام
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری کیے گئے اپنے ایک سخت پیغام میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ پیٹرولیم کمپنیاں امریکی عوام پر بلاجواز بوجھ ڈال رہی ہیں۔
انہوں نے پرزور مطالبہ کیا کہ پیٹرول کی فی گیلن قیمت کو فوری طور پر کم کر کے تقریباً 2.50 ڈالر کی سطح پر لایا جائے۔ صدر نے متنبہ کیا کہ اگر ریٹیلرز نے قیمتیں کم کرنے کے ان صدارتی احکامات پر عمل نہ کیا تو ان کے خلاف انتہائی سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
مختلف امریکی ریاستوں میں پیٹرول کے موجودہ نرخ
اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکا بھر میں پیٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 3.40 سے 3.50 ڈالر فی گیلن کے درمیان چل رہی ہے۔ تاہم مختلف ریاستوں کے مقامی ٹیکسز اور سپلائی چین کی وجہ سے ان قیمتوں میں واضح فرق موجود ہے۔
کیلیفورنیا اور نیویارک جیسی گنجان آباد ریاستوں میں قیمتیں اس اوسط سے کہیں زیادہ ہیں، جبکہ ٹیکساس اور مسیسیپی جیسی ریاستوں میں مقامی تیل کی پیداوار اور کم ریاستی ٹیکسز کی بدولت پیٹرول قدرے سستا اور اوسط قیمت سے نیچے دستیاب ہے۔
امریکا میں پیٹرول کی قیمتیں ہمیشہ سے ایک انتہائی حساس سیاسی اور معاشی معاملہ رہی ہیں، کیونکہ مہنگائی کی شرح میں ایندھن کی قیمت کا کلیدی کردار ہوتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی حکومت اس سے قبل بھی تیل کمپنیوں پر کڑی تنقید کرتی رہی ہے اور قیمتوں میں کمی نہ کرنے پر باقاعدہ تحقیقات کا عندیہ بھی دے چکی ہے۔
حالیہ عالمی کشیدگی اور جغرافیائی تنازعات کے بعد فیول مارکیٹ میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے، تاہم حکومت کا استدلال ہے کہ جب عالمی مارکیٹ میں خام تیل سستا ہوتا ہے تو ریٹیلرز عوام کو اس کا فوری ریلیف فراہم نہیں کرتے۔
عوامی دباؤ اور سیاسی مہم
مہنگائی میں اضافے کے باعث صدر ٹرمپ پر عوامی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ پیٹرول سستا ہونے سے نہ صرف ٹرانسپورٹ کے اخراجات کم ہوں گے بلکہ عام اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی آئے گی، جس سے حکومت کو سیاسی فائدہ ہوگا۔
ریٹیلرز کے لیے چیلنج
واضح رہے کہ امریکی انتظامیہ اور تیل کمپنیوں کے درمیان یہ کشیدگی آنے والے دنوں میں مزید بڑھ سکتی ہے۔ فیول ریٹیلرز کا موقف ہوتا ہے کہ وہ براہِ راست خام تیل کی قیمتوں کو کنٹرول نہیں کرتے، لیکن صدر کی وارننگ ان کے لیے ایک بڑا انتظامی اور قانونی چیلنج بن گئی ہے۔
ممکنہ حکومتی ایکشن
اگر تیل کمپنیوں نے منافع خوری کم نہ کی تو امریکی حکومت ان کے خلاف اینٹی ٹرسٹ قوانین کے تحت مونوپولی اور پرائس فکسنگ کی تحقیقات کا آغاز کر سکتی ہے، جس سے مارکیٹ میں مزید دباؤ پیدا ہوگا۔