خیبر پختونخوا کے عوام نے افغانستان کے اندر دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانوں پر افواجِ پاکستان کی حالیہ فضائی اور زمینی کارروائیوں کی بھرپور اور کھل کر حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔
صوبے کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے شہریوں، قبائلی عمائدین اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاک فوج کی جانب سے افغان صوبوں پکتیا، پکتیکا اور کنڑ میں کی جانے والی یہ کارروائی انتہائی بہترین اور وقت کی اہم ترین ضرورت تھی۔
عوام کے مطابق ملکی سلامتی اور امن و امان کے قیام کے لیے دہشتگرد عناصر کی روک تھام کے لیے اس قسم کی فوری، سخت اور مؤثر کارروائی ناگزیر ہو چکی تھی۔
حالیہ دہشتگردی پر عوامی تشویش اور افغان نژاد عناصر کا ملوث ہونا
خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے عوام نے حالیہ دنوں میں ہونے والے دہشتگردی کے پے در پے واقعات پر گہرے رنج و غم اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ان افسوسناک حملوں میں افغان سر زمین پر پناہ گزین دہشت گرد ملوث ہیں جو سرحد پار بیٹھ کر پاکستان کا امن تباہ کرنے کی سازشیں کر رہے ہیں۔
شہریوں کے مطابق پاک فوج نے سرحد پار پکتیا، پکتیکا اور کنڑ میں ’فتنہ الخوارج‘ اور ’جماعت الاحرار‘ کے خلاف جو کاری ضرب لگائی ہے وہ انتہائی خوش آئند ہے، کیونکہ اس کارروائی سے ملک دشمن عناصر کے مذموم عزائم خاک میں مل گئے ہیں۔
امن و استحکام کے لیے سیکیورٹی اداروں سے مستقل آپریشنز کا مطالبہ
عوام نے سیکیورٹی فورسز کی بہادری کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ آئندہ بھی سیکیورٹی ادارے ملک دشمنوں اور دہشت گردوں کے خلاف اسی طرح کی بے لچک اور سخت کارروائیاں جاری رکھیں گے۔
عوامی نمائندوں کا مؤقف ہے کہ پائیدار امن کی بحالی صرف اسی صورت ممکن ہے جب دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ انہوں نے سیکیورٹی اداروں پر زور دیا کہ وہ اپنی ان مؤثر کارروائیوں کو منطقی انجام تک پہنچائیں تاکہ ملک میں مکمل امن، معاشی استحکام اور شہریوں کو تحفظ کا احساس مل سکے۔
پاکستان کو گزشتہ طویل عرصے سے خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں دہشتگردی کی ایک نئی لہر کا سامنا ہے۔
سیکیورٹی اداروں کے پاس یہ ٹھوس اور ناقابلِ تردید شواہد موجود تھے کہ ‘فتنہ الخوارج’ (سابقہ تحریکِ طالبان پاکستان) اور ‘جماعت الاحرار’ کے دہشت گرد افغانستان کے سرحدی صوبوں پکتیا، پکتیکا اور کنڑ میں کھلے عام تربیتی کیمپ چلا رہے ہیں اور وہیں سے پاکستان پر حملوں کی پلاننگ کی جاتی ہے۔
پاکستان کی جانب سے کابل کی افغان عبوری حکومت کو بارہا انتباہ جاری کیے گئے، لیکن وہاں سے کوئی عملی اقدام نہ ہونے پر افواجِ پاکستان نے 28 اور 29 جون کی درمیانی رات ‘آپریشن غضب الحق’ کے تحت سرحد پار انٹیلی جنس بیسڈ فضائی کارروائیاں کیں، جس میں دہشت گردوں کے ٹھکانے اور بارود کے ذخائر تباہ کر دیے گئے۔
ملٹری اور سول فرنٹ پر یکجہتی
خیبر پختونخوا کے عوام طویل عرصے سے دہشت گردی کی وجہ سے سب سے زیادہ جانی و مالی نقصان اٹھا رہے ہیں۔ ان کی جانب سے ملٹری ایکشن کی حمایت یہ ثابت کرتی ہے کہ سرحد پر رہنے والے لوگ اب دہشتگردوں کے جھوٹے بیانیے سے مکمل طور پر لا تعلق ہو چکے ہیں اور وہ پاک فوج کے آپریشنز کو اپنی بقا کا ضامن سمجھتے ہیں۔
افغان بیانیے کی ناکامی
افغان عبوری حکومت اکثر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتی ہے کہ پاکستان کی کارروائیاں مقامی آبادی کے خلاف ہیں، لیکن خیبر پختونخوا کے عوام کا یہ تازہ بیان کابل کے اس پروپیگنڈے کو یکسر مسترد کرتا ہے اور یہ واضح کرتا ہے کہ کارروائی صرف اور صرف دہشت گردوں کے خلاف ہے۔
مستقبل کی حکمتِ عملی
عوامی سطح پر ملنے والی اس پذیرائی سے سیکیورٹی اداروں کا مورال مزید بلند ہوگا، جس کے بعد دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس شیئرنگ اور مقامی سطح پر سہولت کاروں کے خاتمے میں سیکیورٹی فورسز کو بڑی کامیابی ملے گی۔