ملک میں خوردنی تیل اور گھی کی سپلائی متاثر ہونے کے باعث بحران کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ ایڈیبل آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کے مطابق خوردنی تیل کی ترسیل کرنے والے ٹینکرز کی ہڑتال 10 روز سے جاری ہے جس کے باعث سپلائی کا نظام متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
چیئرمین ایڈیبل آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن بختاور خان نے خبردار کیا ہے کہ اگر ٹینکرز کی ہڑتال مزید جاری رہی تو ملک کے مختلف علاقوں میں خوردنی تیل کی ترسیل رک سکتی ہے جس سے گھی اور تیل کی قلت پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
ا نہوں نے کہا کہ خوردنی تیل کی مسلسل ترسیل نہ ہونے کی صورت میں مارکیٹ میں دستیابی متاثر ہوسکتی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ٹینکرز کو درپیش مسائل کا فوری حل نکالا جائے تاکہ سپلائی کا سلسلہ معمول کے مطابق جاری رکھا جاسکے۔
بختاور خان نے کہا ہے کہ10 ویلر خوردنی تیل ٹینکر کی گنجائش تقریباً 60 ٹن ہے اور موجودہ صورتحال میں ان ٹینکرز کے وزن سے متعلق پابندیوں کے باعث ٹرانسپورٹرز کو مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ 10 ویلر ٹینکرز کو مقررہ گنجائش کے مطابق وزن لے جانے کی اجازت دی جائے۔
چیئرمین ایڈیبل آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن نے کہا کہ ٹینکرز مالکان اور متعلقہ حکام کے درمیان پیدا ہونے والے مسائل کا حل ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ہڑتال جاری رکھی جائے گی۔
ملک میں گھی اور خوردنی تیل روزمرہ استعمال کی بنیادی اشیا میں شامل ہیں۔ ٹینکرز کی ہڑتال طویل ہونے کی صورت میں ان کی ترسیل اور دستیابی پر اثر پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔