بھارتی گلوکار اور اداکار دلجیت دوسانجھ سے متعلق انکشاف ہوا ہے کہ انہوں نے اپنی حالیہ فلم ’’ستلج‘‘ میں مرکزی کردار ادا کرنے کے لیے صرف ایک بھارتی روپیہ معاوضہ لیا۔
فلم کے ہدایت کار ہنی تریہان نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ جب دلجیت دوسانجھ سے معاوضے کی بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ جسونت سنگھ خالڑا جیسے انسان کا کردار ادا کرنے کے لیے رقم لینا شرم کی بات ہوگی۔ ان کے مطابق، جب معاہدے کی قانونی کارروائی کے لیے ادائیگی ضروری قرار دی گئی تو دلجیت نے صرف ایک روپیہ لینے پر رضامندی ظاہر کی۔
ہنی تریہان کا کہنا تھا کہ اگر دلجیت دوسانجھ اس منصوبے کا حصہ نہ بنتے تو شاید یہ فلم کبھی مکمل ہی نہ ہو پاتی۔
فلم، جو پہلے’’پنجاب 95‘‘ کے نام سے بنائی گئی تھی، بھارتی پنجاب کے معروف انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ خالڑا کی زندگی اور جدوجہد پر مبنی ہے۔ تاہم، بھارتی سنسر بورڈ کے اعتراضات کے بعد فلم کا نام تبدیل کرکے ’’ستلج‘‘رکھ دیا گیا، جبکہ مکالموں اور مناظر پر متعدد کٹس بھی لگائے گئے، جس کے باعث اس کی ریلیز میں طویل تاخیر ہوئی۔
فلم 3 جولائی کو ریلیز ہوئی، تاہم بعد ازاں بھارتی حکومت نے سکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے اس کی نمائش روک دی اور اسے آن لائن پلیٹ فارمز سے بھی ہٹا دیا۔
اس پابندی کے باوجود فلم کو دیکھنے کا سلسلہ نہ رکا۔ مختلف بھارتی شہروں میں شہریوں نے فلم ڈاؤن لوڈ کرکے نجی اور عارضی سنیما گھروں میں اس کی نمائش شروع کردی، جہاں بڑی تعداد میں لوگ فلم دیکھنے پہنچے۔
اس صورتحال پر دلجیت دوسانجھ کا کہنا تھا کہ لوگ فلم ڈاؤن لوڈ کر چکے ہیں، اس لیے اب اسے دبانا ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی ہماری آواز دبانے کی کوشش کی گئی، لیکن اب حالات بدل چکے ہیں۔
واضح رہے کہ جسونت سنگھ خالڑا نے 1980 اور 1990 کی دہائی میں بھارتی پنجاب میں ماورائے عدالت ہلاکتوں کو بے نقاب کیا تھا۔ 1995 میں انہیں اغوا کیا گیا اور بعد ازاں پولیس نے قتل کرکے ان کی لاش نہر میں پھینک دی تھی۔ ان کا مقدمہ آج بھی بھارت کی متنازع انسانی حقوق کی تاریخ میں اہم مقام رکھتا ہے۔