موبائل بینکنگ ایپس کا استعمال ، گورنر اسٹیٹ بینک کا بڑا بیان سامنے آگیا

موبائل بینکنگ ایپس کا استعمال ، گورنر اسٹیٹ بینک کا بڑا بیان سامنے آگیا

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے ادائیگیوں کا زیادہ شمولیتی، ڈیجیٹل اور مضبوط ایکوسسٹم بنانے پر زور دیتےہوئے کہا ہے کہ موبائل بینکنگ ایپس استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد تقریباً 13.7 کروڑ تک پہنچ چکی ہے اور ڈجیٹل ذرائع سے موصولہ ملکی ترسیلات زر کا تناسب تقریباً 80 فیصد سے بڑھ کر 92 فیصد ہو گیا ہے۔

اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد نے ایچ بی ایل، یونین پے انٹرنیشنل اور پے پاک کے کوبیج ڈیبٹ کارڈ کے آغاز کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے جو ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ایک جدید، مضبوط اور شمولیتی ایکو سسٹم کی جانب سفر کو آگے بڑھائے گا اور کیش لیس پاکستان کے وزیراعظم کے خواب کو پورا کرنے میں مدد دے گا۔

 یہ بھی پڑھیں :نئے کرنسی نوٹوں کے اجراء سے متعلق گورنر اسٹیٹ بینک کا اہم بیان آگیا

افتتاحی تقریب سے خطاب میں گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ ادائیگی کا کوبیج طریقہ ملکی ادائیگیوں کے پاکستانی انفرا اسٹرکچر کی قوت کو عالمی ادائیگی نیٹ ورک کی بین الاقوامی قبولیت کے ساتھ یکجا کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ اقدام پے پاک کے حوالے سے اسٹیٹ بینک کے طویل مدتی وژن کا عکاس ہے یعنی ایک محفوظ، سستی اور مقامی سطح پر چلائی جانے والی ادائیگی کی اسکیم وضع کرنا جو بڑھتی ہوئی ملکی ڈیجیٹل معیشت کی اعانت کے ساتھ صارفین کو پاکستان میں اور بیرون ملک بلاتعطل لین دین کی سہولت دے سکے۔

گورنر نے کہا کہ یہ اقدام اسٹیٹ بینک کے وژن 2028 اور وزیر اعظم کے کیش لیس پاکستان اقدام سے ہم آہنگ ہے جس کا مقصد پاکستان کے مالی نظام کو زیادہ شمولیتی، زیادہ ڈیجیٹل اور زیادہ پائیدار بنانا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ سے پیسے باہر لے جانے میں کوئی ممانعت نہیں، گورنر اسٹیٹ بینک کی وضاحت

انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد محض ادائیگیوں کو ڈیجیٹائز کرنا نہیں بلکہ ایک ایسا ایکو سسٹم تخلیق کرنا ہے، جس میں افراد اور کاروباری ادارے بلاتعطل، بحفاظت اور مؤثرانداز میں لین دین انجام دے سکیں۔

اس حوالے سے پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کا نظام مسلسل تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور گزشتہ ایک سال کے دوران ریٹیل ڈیجیٹل لین دین کی تعداد تقریباً 6.9 ارب سے بڑھ کر 12 ارب کے قریب پہنچ گئی اورفعال مرچنٹس کی تعداد تقریباً 5 لاکھ سے بڑھ کر 20 لاکھ سے تجاوز کر گئی۔

editor

Related Articles