بادشاہت کا انداز یا تاریخی اعزاز؟ ٹرمپ کے چہرے والا ڈالر سکہ جاری، امریکی عوام میں نئی بحث

بادشاہت کا انداز یا تاریخی اعزاز؟ ٹرمپ کے چہرے والا ڈالر سکہ جاری، امریکی عوام میں نئی بحث

امریکی وزارتِ خزانہ نے تاریخ میں پہلی بار کسی برسرِ اقتدار صدر کی تصویر کرنسی پر نقش کرنے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں، جس کے تحت صدر ٹرمپ کے چہرے والا ایک ڈالر کا نیا گولڈ کوائن (سکہ) متعارف کرایا جا رہا ہے۔

نئے سکے کا ڈیزائن

امریکی مالیاتی تاریخ میں ایک غیر معمولی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے گزشتہ روز اس نئے خصوصی سکے کے ڈیزائن کی باقاعدہ رونمائی کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:165 سالہ روایت ٹوٹ گئی ، اب امریکی ڈالروں پر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط بھی شامل ہونگے

یہ سکہ امریکی ٹکسال (منٹ) کی جانب سے تیار کیا جا رہا ہے۔ سکے کے سامنے والے حصے پر صدر ٹرمپ کے چہرے کی تصویر نقش کی گئی ہے۔

سکے پر درج عبارت

 تصویر کے ساتھ روایتی امریکی جملہ ’ہمارا خدا پر ایمان ہے‘ اور ‘1776-2026’ کے تاریخی سال درج کیے گئے ہیں، جو امریکا کے 250 سالہ سفر کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کے بارے میں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ وہ اس سے قبل بھی مختلف وفاقی عمارتوں، ایک ہوائی اڈے، پُلوں اور کچھ پاسپورٹس پر بھی اپنا نام یا شبیہ نقش کروا چکے ہیں، تاہم کرنسی پر تصویر کا آنا ان کا اب تک کا سب سے بڑا علامتی اقدام سمجھا جا رہا ہے۔

امریکی کرنسی کی تاریخ اور روایات

امریکی تاریخ میں یہ قدم انتہائی منفرد اور متنازع اس لیے ہے کیونکہ روایتی طور پر امریکی سکوں اور نوٹوں پر صرف ان صدور یا تاریخی شخصیات کی تصاویر نقش کی جاتی ہیں جو وفات پا چکے ہوں۔

امریکا کے بانی صدر جارج واشنگٹن نے خود اپنی زندگی میں کرنسی پر اپنی تصویر لگانے کی مخالفت کی تھی کیونکہ وہ اسے برطانوی بادشاہت کا انداز سمجھتے تھے۔

ماضی میں یادگاری سکے تو جاری ہوتے رہے ہیں، لیکن کسی برسرِ اقتدار اور حیات صدر کی تصویر کو سرکاری سکے کا حصہ بنانا امریکی ٹکسال کی صدیوں پرانی روایت سے انحراف سمجھا جا رہا ہے۔

سیاسی اثرات اور معاشی علامات

امریکی وزارتِ خزانہ کے اس اقدام کے گہرے سیاسی اور سماجی اثرات دیکھے جا رہے ہیں

سیاسی طاقت کا اظہار

 صدر ٹرمپ کی جانب سے اپنی زندگی اور دورِ اقتدار میں سکے پر تصویر لگوانا ان کے اس منفرد سیاسی انداز کو ظاہر کرتا ہے جہاں وہ اپنی ذات کو امریکی تاریخ کے ایک لازوال حصے کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں۔

امریکی روایات کا ٹکراؤ

 روایت پسند حلقے اس اقدام کو پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھ رہے، کیونکہ یہ ’کنگ شپ‘ یا بادشاہت کے اس انداز سے مماثلت رکھتا ہے جس کے خلاف امریکا نے آزادی حاصل کی تھی۔ سکے پر ‘1776-2026’ لکھنا آزادی کے ڈھائی سو سال پورے ہونے پر ٹرمپ کے اثر کو مستقل کرنے کی کوشش ہے۔

سرمایہ کاروں کی دلچسپی

 چونکہ یہ ایک ‘گولڈ کوائن’ ہے، اس لیے معاشی نقطۂ نظر سے یہ عام گردش کے بجائے ایک یادگاری سکے (کلیکٹرز آئٹم) کے طور پر دیکھا جائے گا، جس کی مارکیٹ میں قیمت ایک ڈالر کے اصل متبادل سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

Related Articles