سکیورٹی ذرائع کے مطابق فتنۃ الخوارج سے وابستہ دہشت گردوں نے جنوبی وزیرستان میں ایک ایسی چیک پوسٹ کو خودکش حملے کا نشانہ بنایا جو تقریباً 15 روز قبل ہی خالی کی جا چکی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پوسٹ پر کسی اہلکار کی تعیناتی نہ ہونے کے باعث حملے میں سکیورٹی فورسز کو کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں پہنچا۔
ذرائع کے مطابق متعلقہ چوکی کو آپریشنل حکمت عملی کے تحت کچھ عرصہ قبل غیر فعال کر دیا گیا تھا، تاہم حملہ آور نے اسی خالی مقام پر خودکش دھماکا کیا، جس کے نتیجے میں صرف حملہ آور ہی ہلاک ہوا۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک غیر فعال اور خالی پوسٹ کو نشانہ بنانا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ دہشت گرد عناصر زمینی حقائق اور سکیورٹی فورسز کی تعیناتی سے متعلق درست معلومات سے محروم تھے۔
واقعے کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر مختلف غیر مصدقہ دعوے گردش کرنے لگے جن میں حملے کے نتیجے میں سکیورٹی فورسز کو بھاری نقصان پہنچنے کا تاثر دینے کی کوشش کی گئی۔ تاہم ان دعوؤں کی کسی سرکاری یا آزاد ذریعے سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
بھارتی خفیہ ایجنسی را (RAW) سے منسوب بعض سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے بھی واقعے کے حوالے سے غیر مصدقہ اور مبالغہ آمیز دعوے شیئر کیے جن میں حملے کے اثرات اور نقصانات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسے دعوؤں کا مقصد گمراہ کن معلومات پھیلانا اور پروپیگنڈا کرنا تھا ۔