عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے خبردار کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث عالمی تیل کی سپلائی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں جبکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے نئے جھٹکے برداشت کرنے کی گنجائش بھی تقریباً ختم ہو چکی ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی ایم ایف نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی کشیدگی نے عالمی توانائی کی ترسیل پر نمایاں اثرات مرتب کیے۔ رپورٹ کے مطابق اس دوران روزانہ تقریباً 2 کروڑ بیرل خام تیل اور ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی متاثر ہوئی جس سے عالمی سپلائی چین دباؤ کا شکار رہی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خلیجی ممالک نے بحران کے دوران متبادل راستوں کے ذریعے تیل کی ترسیل جاری رکھنے کی کوشش کی۔ سعودی عرب نے اپنی پائپ لائن کے ذریعے ریڈ سی کی بندرگاہوں تک تیل پہنچایا جبکہ متحدہ عرب امارات نے آبنائے ہرمز سے باہر واقع الفجیرہ بندرگاہ سے برآمدات جاری رکھیں۔
آئی ایم ایف کے مطابق یہ متبادل راستے اگرچہ سپلائی کو مکمل طور پر بند ہونے سے بچانے میں مددگار ثابت ہوئے تاہم وہ آبنائے ہرمز کے ذریعے ہونے والی ترسیل کا صرف ایک محدود حصہ ہی پورا کر سکے۔ اسی دوران خلیجی خطے میں ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات کی پیداوار میں بھی نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بحران کے باعث ڈیزل اور جیٹ فیول کی سپلائی سب سے زیادہ متاثر ہوئی جبکہ متاثرہ خطہ عالمی ریفائنڈ مصنوعات کی مجموعی سپلائی میں تقریباً 10 فیصد حصہ رکھتا ہے جس کے باعث عالمی منڈی میں خدشات مزید بڑھ گئے۔
آئی ایم ایف نے نشاندہی کی کہ اگرچہ کشیدگی کے آغاز پر خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا تاہم بعد ازاں قیمتیں 90 سے 100 ڈالر فی بیرل کے درمیان مستحکم رہیں۔ رپورٹ کے مطابق توقعات کے برعکس قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ نہ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ متعدد عوامل نے ابتدائی جھٹکے کے اثرات کو کسی حد تک کم کر دیا۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں عالمی تیل مارکیٹ کی لچک پہلے کے مقابلے میں بہت کم رہ گئی ہے اور اگر مستقبل میں سپلائی میں کسی بڑے تعطل یا جغرافیائی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو عالمی توانائی کی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے جس کے اثرات تیل کی قیمتوں، نقل و حمل، صنعتوں اور عالمی معیشت پر بھی مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔