خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے علاقے تہکال پایان میں ایک رہائشی مکان میں اچانک لگنے والی ہولناک آگ کے نتیجے میں میاں، بیوی اور ان کے 4 بچوں سمیت ایک ہی خاندان کے 6 افراد دم گھٹنے سے جاں بحق ہو گئے۔
ریسکیو آپریشن
پشاور کے گنجان آباد علاقے تہکال پایان میں پیش آنے والے اس دردناک واقعے نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا ہے۔
آگ لگنے کا مقام
آگ گھر کے مرکزی ہال میں لگی، جہاں فرنیچر، فوم کے گدے اور دیگر انتہائی آتش گیر گھریلو سامان موجود تھا۔ سامان کی موجودگی کی وجہ سے آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے ہولناک شکل اختیار کر لی۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی فائر فائٹرز اور امدادی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچیں اور تندہی سے کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پا لیا۔
نعشوں کی برآمدگی
آگ بجھانے کے بعد جب ریسکیو اہلکاروں نے متاثرہ گھر میں سرچ آپریشن شروع کیا، تو ایک اندرونی کمرے سے 6 افراد کی نعشیں برآمد ہوئیں۔
جاں بحق ہونے والے
جاں بحق ہونے والوں میں گھر کا سربراہ، اس کی شریکِ حیات اور ان کے معصوم بچے شامل ہیں۔ تمام نعشوں کو ضروری کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
موت کی وجہ
ریسکیو حکام کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق، کمرے میں موجود تمام افراد کی موت آگ کے براہ راست لگنے سے نہیں بلکہ کمرے میں پھیلنے والی شدید تپش اور زہریلے دھویں کے باعث دم گھٹنے سے ہوئی۔
انتظامیہ کے مطابق آگ لگنے کی حتمی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی ہے، تاہم پولیس اور فرانزک ٹیموں نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ آتشزدگی کی اصل وجہ کا پتا لگایا جا سکے۔
پشاور کے گنجان آباد علاقوں میں آتشزدگی کے بڑھتے خطرات
تہکال پایان پشاور کا ایک قدیم اور گنجان آباد علاقہ ہے جہاں تنگ گلیوں اور بے ہنگم تعمیرات کے باعث ایمرجنسی گاڑیوں کی آمد و رفت میں اکثر مشکلات پیش آتی ہیں۔
ماضی میں بھی پشاور کے ایسے علاقوں میں شارٹ سرکٹ یا گیس لیکیج کے باعث کئی ہولناک حادثات رونما ہو چکے ہیں۔ گیس ہیٹرز کا غیر محتاط استعمال یا بجلی کی ناقص وائرنگ ایسے حادثات کی بڑی وجوہات بنتی ہیں، جس کے تدارک کے لیے حفاظتی اقدامات کا فقدان ہمیشہ سے ایک بڑا مسئلہ رہا ہے۔
بند کمرے اور زہریلا دھواں کس طرح قاتل بنتے ہیں؟
گھر کے ہال میں موجود فرنیچر اور فوم کے جلنے سے کاربن مونو آکسائیڈ اور دیگر انتہائی زہریلی گیسیں خارج ہوئیں، جن کے پھیلاؤ سے محض چند منٹوں کے اندر انسان بے ہوش ہو جاتا ہے۔
بند کمرے کا جال
آگ ہال میں لگی تھی اور متاثرہ خاندان اندرونی کمرے میں موجود تھا۔ ممکنہ طور پر انہوں نے خود کو محفوظ رکھنے کے لیے دروازے بند کر لیے، جس کی وجہ سے آکسیجن ختم ہو گئی اور وہ باہر نکلنے کے قابل نہ رہے۔
حفاظتی شعور کی کمی
ہمارے ہاں گھروں کی تعمیر کے وقت ایمرجنسی راستوں (فائر ایگزٹ) یا وینٹیلیشن کا کوئی انتظام نہیں کیا جاتا۔ اگر گھر میں دھویں کو باہر نکالنے کا کوئی متبادل راستہ ہوتا تو شاید ان قیمتی جانوں کو بچایا جا سکتا تھا۔