ارجنٹینا اور برطانیہ کی دشمنی کی تاریخ، فاک لینڈز تنازع اصل میں ہے کیا ؟

ارجنٹینا اور برطانیہ کی دشمنی کی تاریخ، فاک لینڈز تنازع اصل میں ہے کیا ؟

فیفا ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں فتح کے بعد ارجنٹینا کے چند کھلاڑیوں کی جانب سے “فاک لینڈز ہمارا ہے” کا بینر اٹھانے کے بعد ایک بار پھر ارجنٹینا اور برطانیہ کے درمیان دہائیوں پرانا فاک لینڈز تنازع عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تنازع صرف زمین کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے کا نہیں بلکہ قومی شناخت، تاریخ، سیاست اور خودمختاری کا معاملہ ہے۔

ورلڈ کپ میں سیاسی بینر، فیفا ایکشن کا امکان

ارجنٹینا کے کھلاڑیوں نے سیمی فائنل میں کامیابی کے بعد جشن کے دوران “فاک لینڈز ہمارا ہے” کا بینر لہرا دیا، جسے دنیا بھر میں لاکھوں افراد نے دیکھا۔

فیفا کے ضابطہ اخلاق کے مطابق اسٹیڈیم کے اندر سیاسی، مذہبی یا امتیازی نوعیت کے نعروں، بینرز یا علامات کی نمائش ممنوع ہے۔ اسی وجہ سے ارجنٹینا کی ٹیم یا متعلقہ کھلاڑیوں کو جرمانے یا تادیبی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے تاہم فیفا نے تاحال اس حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا۔

فاک لینڈز کہاں واقع ہیں؟

فاک لینڈ جزائر، جنہیں ارجنٹینا “مالویناس” (Malvinas) کہتا ہے جنوبی بحرِ اوقیانوس میں واقع تقریباً 700 سے زائد چھوٹے بڑے جزیروں پر مشتمل ایک مجموعہ ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں :فیفا ورلڈ کپ انگلینڈ کا 60 سال بعد بھی خواب پورا نہ ہو سکا،ارجنٹینا نے فائنل کیلئے کوالیفائی کر لیا

یہ جزائر برطانیہ سے تقریباً 8 ہزار میل جبکہ ارجنٹینا کے ساحل سے صرف 300 میل کے فاصلے پر واقع ہیں اسی وجہ سے ارجنٹینا ان پر اپنا تاریخی اور جغرافیائی حق جتاتا ہے۔

دوسری جانب برطانیہ انہیں اپنا سمندر پار خود مختار علاقہ قرار دیتا ہے اور وہاں اپنی انتظامیہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔

تنازع کی تاریخ کیا ہے؟

فاک لینڈ جزائر پر برطانیہ اور ارجنٹینا کے درمیان اختلاف کئی دہائیوں پر محیط ہے۔1833 میں برطانیہ نے جزائر کا کنٹرول سنبھالا تاہم ارجنٹینا نے کبھی بھی اس دعوے کو تسلیم نہیں کیا اور مسلسل انہیں اپنی سرزمین قرار دیتا رہا۔

یہ تنازع اپریل 1982 میں اس وقت جنگ میں تبدیل ہوگیا جب ارجنٹینا کی فوج نے فاک لینڈ جزائر پر قبضہ کر لیا۔اس کے جواب میں اس وقت کی برطانوی وزیراعظم مارگریٹ تھیچر نے بحری بیڑا روانہ کیا اور دونوں ممالک کے درمیان 74 روز تک شدید جنگ جاری رہی۔

جون 1982 میں برطانوی افواج نے دوبارہ جزائر کا کنٹرول حاصل کر لیا اور جنگ کا خاتمہ ہوگیا۔

جنگ میں کتنی ہلاکتیں ہوئیں؟

74 روز جاری رہنے والی اس جنگ میں ارجنٹینا کے 655 فوجی ہلاک ہوئے۔برطانیہ کے 255 فوجی مارے گئے اور جزائر کے 3 شہری بھی جان سے گئے۔

اس شکست کے بعد ارجنٹینا میں فوجی حکومت کمزور پڑ گئی جبکہ برطانیہ میں وزیراعظم مارگریٹ تھیچر کی سیاسی مقبولیت میں نمایاں اضافہ ہوا۔

آج بھی تنازع کیوں برقرار ہے؟

جنگ ختم ہونے کے باوجود فاک لینڈ جزائر کی خودمختاری کا مسئلہ آج بھی حل طلب ہے۔ارجنٹینا کا مؤقف ہے کہ جزائر اس کے جغرافیائی دائرے میں واقع ہیں اس لیے ان پر اسی کا حق ہے۔

برطانیہ کا کہنا ہے کہ فاک لینڈز کے رہائشی متعدد مواقع پر برطانیہ کے ساتھ رہنے کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں، اس لیے ان کی خواہش کے مطابق جزائر برطانوی عملداری میں رہیں گے۔

 یہ بھی پڑھیں :سب سے زیادہ گولزکا ریکارڈ ! فیفا ورلڈ کپ میں کونسی ٹیم سب پر بھاری؟

اقوام متحدہ بھی دونوں ممالک پر زور دیتی رہی ہے کہ وہ اس تنازع کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں تاہم اب تک کوئی حتمی پیش رفت نہیں ہو سکی۔

فٹبال میں بھی دشمنی برقرار

ارجنٹینا اور انگلینڈ کی دشمنی صرف سیاست تک محدود نہیں بلکہ فٹبال کے میدان میں بھی نمایاں نظر آتی ہے۔1986 کے فیفا ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل میں ارجنٹینا کے لیجنڈری کپتان ڈیاگو میراڈونا نے انگلینڈ کے خلاف دو تاریخی گول کیے تھے، جن میں ایک کو بعد ازاں “ہینڈ آف گاڈ” اور دوسرے کو “صدی کا بہترین گول” قرار دیا گیا۔

اس میچ کو بھی فاک لینڈ جنگ کے صرف چار سال بعد ہونے کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اور جذباتی کشیدگی کے تناظر میں دیکھا گیا تھا۔

فیفا کیا کارروائی کر سکتا ہے؟

فیفا کے ضابطہ اخلاق کے مطابق کھیلوں کے میدان کو سیاسی پیغام رسانی کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کسی ٹیم یا کھلاڑی کی جانب سے سیاسی بینر یا نعرہ بازی ثابت ہو جائے تو جرمانہ، وارننگ یا دیگر تادیبی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں :16 سال بعد ورلڈ کپ فائنل میں واپسی، اسپین نے کتنی بار فیفا ورلڈ کپ کا فائنل کھیلا؟

اگرچہ ارجنٹینا کے کھلاڑیوں کے حالیہ اقدام پر فیفا نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں سنایا، تاہم ماضی کی مثالوں کو دیکھتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کا امکان موجود ہے۔

تنازع اب بھی ختم نہیں ہوا

چار دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود فاک لینڈ جزائر کا تنازع ارجنٹینا اور برطانیہ کے درمیان سفارتی اختلافات کی اہم وجہ بنا ہوا ہے۔ حالیہ ورلڈ کپ میں سیاسی بینر کے ذریعے ایک بار پھر واضح ہو گیا ہے کہ یہ مسئلہ صرف تاریخ کا حصہ نہیں بلکہ آج بھی دونوں ممالک کے قومی بیانیے اور عوامی جذبات میں زندہ ہے۔

editor

Related Articles