کیا انٹارکٹیکا میں واقعی اہرام موجود ہیں؟ حقیقت سامنے آ گئی

کیا انٹارکٹیکا میں واقعی اہرام موجود ہیں؟ حقیقت سامنے آ گئی

سوشل میڈیا پر اکثر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ انٹارکٹیکا میں برف کے درمیان پراسرار اہرام موجود ہیں، تاہم ماہرین ارضیات کے مطابق یہ دعویٰ درست نہیں اور وہاں موجود اہرام نما پہاڑ قدرتی عمل کا نتیجہ ہیں۔

ماہرین کے مطابق انٹارکٹیکا کے ایلس ورتھ ماؤنٹینز کے ہیریٹیج رینج میں موجود بعض پہاڑی چوٹیاں اپنی ساخت کے باعث اہرام جیسی دکھائی دیتی ہیں۔ ان قدرتی چٹانی چوٹیوں کو نوناٹاکسکہا جاتا ہے، جو برفانی تہہ سے باہر ابھری ہوئی ہوتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:دنیا کی منفرد ترین مکڑی، جس کا جسم سونےکی طرح چمکتا ہے

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ لاکھوں برس تک جاری رہنے والے برفانی کٹاؤ اور موسمی اثرات نے ان پہاڑوں کو یہ منفرد شکل دی ہے۔ چٹانوں میں قدرتی دراڑیں اور کٹاؤ ان کی نوکیلی اور متوازن ساخت کی وجہ بنتے ہیں۔

ماہرین یہ بھی بتاتے ہیں کہ انسانی دماغ اکثر قدرتی اشکال میں مانوس چیزیں دیکھ لیتا ہے، جسے پیریڈولیا کہا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے بہت سے لوگ ان قدرتی پہاڑوں کو انسانی ہاتھوں سے بنائے گئے اہرام سمجھ لیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:دنیا کا پہلا زہریلا پرندہ، جسے چھونا بھی خطرناک ہو سکتا ہے

سائنسی تحقیقات، ارضیاتی سروے اور سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق انٹارکٹیکا میں کسی قدیم تہذیب یا خلائی مخلوق کے بنائے ہوئے اہرام کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ براعظم لاکھوں برس سے برف کی موٹی تہہ میں ڈھکا ہوا ہے، اس لیے قدیم انسانی تہذیب کے وہاں آباد ہونے کا امکان بھی انتہائی کم ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق یہ اہرام نما پہاڑ قدرت کی کاریگری کی ایک مثال ہیں، جو برفانی کٹاؤ اور موسمی تبدیلیوں کے طویل عمل سے وجود میں آئے ہیں۔

editor

Related Articles