26 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ اور کارکردگی صفر؟ حکومت نے ٹیکس ٹربیونل کے ارکان کے خلاف بڑا قدم اٹھا لیا

26 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ اور کارکردگی صفر؟ حکومت نے ٹیکس ٹربیونل کے ارکان کے خلاف بڑا قدم اٹھا لیا

وفاقی حکومت نے گزشتہ سال نجی شعبے سے 2.6 ملین (26 لاکھ) روپے ماہانہ کی خطیر مارکیٹ بیسڈ تنخواہوں اور مراعات پر بھرتی کیے گئے ’ایپلیٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو‘ کے 24 ارکان کی کارکردگی اور طرزِ عمل کا جائزہ لینے کے لیے ایک 4 رکنی اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی قائم کر دی ہے۔

کمیٹی ان ارکان کو برقرار رکھنے، توسیع دینے یا نااہلی و بدعنوانی کی بنیاد پر نوکری سے نکالنے کی سفارش کرے گی۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی اس 4 رکنی کمیٹی میں ریٹائرڈ جسٹس اطہر سعید، ریٹائرڈ جسٹس طارق عباسی، ٹیلی کمیونیکیشن ایپلیٹ ٹربیونل کے چیئرمین اور ان لینڈ ریونیو سروس کے ریٹائرڈ افسر شاد ایم خان، اور ممتاز چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ غازی اختر خان شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پنجاب ریونیو اتھارٹی کا تاریخی کارنامہ، 367 ارب روپے ٹیکس وصولی کا نیا ریکارڈ قائم

یہ کمیٹی اس بات کا باریک بینی سے جائزہ لے گی کہ آیا نجی شعبے سے اتنی بھاری تنخواہوں پر بھرتیاں کرنے سے ٹیکس تنازعات کے حل میں کوئی تیزی آئی ہے یا پھر انتظامی اور آپریشنل خامیاں بدستور ٹربیونل کی کارکردگی کو متاثر کر رہی ہیں۔

یاد رہے کہ یہ تقرریاں 2024 کے بھرتی فریم ورک کے تحت اس لیے کی گئی تھیں تاکہ ٹیکس تنازعات کا فیصلہ جلد سے جلد کر کے قومی خزانے کے اربوں روپے واگزار کرائے جائیں اور کیسز کا بوجھ کم کیا جا سکے۔ لیکن تمام تر مراعات کے باوجود التوا کا شکار کیسز کی تعداد کم ہونے کے بجائے مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ٹربیونلز میں زیرِ التوا ٹیکس کیسز کی مجموعی تعداد 68,000 تک پہنچ چکی ہے۔ ان میں سے تقریباً 60,000 کیسز ان لینڈ ریونیو سروس (انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس، اور فیڈرل ایکسائز) سے متعلق ہیں، جبکہ 8,000 کیسز کسٹمز کے تنازعات پر مبنی ہیں۔

سب سے زیادہ بوجھ صوبہ پنجاب پر ہے، جہاں کل زیرِ التوا کیسز کا 76 فیصد موجود ہے اور اس میں بھی سب سے بڑا حصہ لاہور کا ہے۔

موجودہ رفتار کے مطابق ٹربیونلز ماہانہ تقریباً 1,000 کیسز نمٹا رہے ہیں۔ اس سست رفتاری کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی نیا کیس فائل نہ بھی ہو، تب بھی موجودہ بیک لاگ کو ختم کرنے میں 5 سے 6 سال کا عرصہ درکار ہوگا۔

وزیرِ اعظم ٹاسک فورس کی رپورٹ اور موجودہ ڈھانچہ

یہ فیصلہ مئی میں وزیرِ اعظم شہباز شریف کی جانب سے قائم کردہ ایک خصوصی ٹاسک فورس کی رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس ٹاسک فورس کو اعلیٰ عدالتوں اور خصوصی ٹربیونلز میں کیسز کے التوا کی وجوہات جاننے کا کام سونپا گیا تھا۔

ٹاسک فورس نے اپنی رپورٹ میں ٹیکس ٹربیونلز کی مایوس کن کارکردگی کی نشاندہی کی تھی، جس پر حکومت کو یہ آزادانہ جائزہ لینے کا حکم دینا پڑا۔

واضح رہے کہ ٹیکس مقدمات کے انتظام کے لیے ملک میں پہلے ہی سے ایک مضبوط طریقہ کار موجود ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کا لیگل ونگ، جس میں لیگل ممبر سمیت لگ بھگ 50 ملازمین شامل ہیں، ان کیسز کی نگرانی کرتا ہے۔

مزید پڑھیں:سولر نیٹ میٹرنگ صارفین سے 18 فیصد سیلز ٹیکس وصولی کا حکم دے دیا گیا  

اس کے علاوہ 2 چیئرمین ٹربیونل کے عدالتی اور انتظامی امور کو چلاتے ہیں۔ ایپلیٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو، کمشنر اپیلز کے بعد انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز کے تنازعات کے حل کا سب سے بڑا عدالتی فورم ہے۔

قومی خزانے پر بوجھ اور احتساب کا نظام

وفاقی حکومت کا یہ اقدام پاکستان کے سرکاری محکموں میں رائج ’ریوارڈ ود آؤٹ پرفارمنس‘ (کارکردگی کے بغیر انعام) کے کلچر کے خلاف ایک اہم پیش رفت ہے۔

عوامی پیسے کا ضیاع اور مایوس کن نتائج

نجی شعبے کے ماہرین کو 26 لاکھ روپے ماہانہ پیکیج پر لانے کا مقصد بیوروکریٹک سستی کو ختم کرنا تھا۔ لیکن 68,000 کیسز کا التوا یہ ثابت کرتا ہے کہ صرف تنخواہیں بڑھانے سے کارکردگی بہتر نہیں ہوتی جب تک کہ کڑا احتساب اور روزانہ کی بنیاد پر اہداف مقرر نہ کیے جائیں۔

معیشت پر اثرات

پاکستان اس وقت شدید اقتصادی بحران اور آئی ایم ایف کے پروگرام کے زیرِ اثر ہے، جہاں ایک ایک روپے کی وصولی اہم ہے۔ ٹیکس ٹربیونلز میں اربوں روپے کے کیسز پھنسے ہونے کی وجہ سے ملکی معیشت براہِ راست متاثر ہو رہی ہے۔ اگر یہ 24 ارکان مہینے میں صرف 1,000 کیسز حل کر رہے ہیں، تو یہ ان کی بھاری لاگت کے مقابلے میں انتہائی کم آؤٹ پٹ ہے۔

کمیٹی کے سامنے چیلنجز

ریٹائرڈ ججز اور ماہرین پر مشتمل یہ نئی کمیٹی اگر اقربا پروری سے پاک ہو کر شفاف رپورٹ دیتی ہے، تو یہ دیگر سرکاری ٹربیونلز کے لیے بھی ایک مثال بنے گی۔

حکومت کو اب نجی شعبے کے ان ارکان کو برقرار رکھنے کے لیے ’نو ورک، نو پے‘ یا کارکردگی سے مشروط معاہدوں کی طرف جانا ہوگا، ورنہ قومی خزانے کو دہرہ نقصان ہوتا رہے گا۔

Related Articles