حکومت کا ایندھن بچاؤ اور سخت کفایت شعاری مہم دوبارہ نافذ کرنے کا فیصلہ

حکومت کا ایندھن بچاؤ اور سخت کفایت شعاری مہم دوبارہ نافذ کرنے کا فیصلہ

مشرقِ وسطیٰ میں تازہ کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے اور ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیشِ نظر، حکومت نے رواں ہفتے یا اگلے ہفتے سے ایندھن کی بچت اور سخت کفایت شعاری کے اقدامات دوبارہ نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اب ہفتہ وار کے بجائے روزانہ کی بنیاد پر تبدیلی کی جائے گی۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر تبدیلی کی جائے گی، تاہم یہ ترمیم صرف کاروباری دنوں (پیر سے جمعہ) میں رات دیر گئے کی جائے گی۔

ہفتہ اور اتوار کو قیمتوں کا نیا اعلان نہیں ہوگا، جس کا مطلب ہے کہ جمعہ کی رات مقرر کی گئی قیمتیں اگلے 3 دن یعنی ہفتہ، اتوار اور پیر تک برقرار رہیں گی۔

یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم کاکفایت شعاری کے مزید اقدامات نافذ کرنے کا حکم، سرکاری اداروں کے اعلیٰ افسران کی تنخواہوں میں دو ماہ کی کٹوتی کا اعلان

حکام کا کہنا ہے کہ اگر ملک میں ایندھن بچت مہم اور 4 روزہ ہفتہ وار کارروائی کا نفاذ عمل میں آتا ہے، تو قیمتوں میں تبدیلی ہفتے میں صرف 4 دن تک بھی محدود کی جا سکتی ہے۔

وزیرِاعظم شہباز شریف نے اس حوالے سے کابینہ کے اراکین اور متعلقہ محکموں سے مشاورت مکمل کر لی ہے اور حتمی منظوری وفاقی کابینہ کے اگلے اجلاس میں متوقع ہے۔

قیمتوں کا نیا طریقہ کار اور اوگرا کا کردار

حکومت نے واضح کیا ہے کہ قیمتوں میں روزانہ تبدیلی کا مقصد پیٹرولیم سیکٹر کو مکمل طور پر ڈی ریگولیٹ کرنا نہیں ہے۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) ماضی کی طرح روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کا حساب لگا کر پیٹرولیم ڈویژن کو بھیجے گی، جہاں سے نوٹیفکیشن جاری ہوگا۔

قیمتوں کے تعین کے لیے بین الاقوامی ایجنسی ‘ایس اینڈ پی گلوبل انرجی پلیٹس’ کی جانب سے جاری کردہ ہفتہ وار نرخوں کو اب ‘رولنگ بیسز’ پر روزانہ استعمال کیا جائے گا۔

مثال کے طور پر، پچھلے ہفتے کے پیر کا ریٹ نئے ہفتے کے پیر کو لسٹ سے نکل جائے گا اور اس کی جگہ پچھلے منگل کا ریٹ شامل ہو جائے گا۔

مزید پڑھیں:ٹیکس چوروں کا بوجھ عوام پر نہیں ڈالیں گے، مشکل حالات کے باوجود عوام دوست بجٹ پیش کیا، عطا اللہ تارڑ

شفافیت کے لیے اوگرا اب قیمتوں کے تعین کے تمام عوامل اور تفصیلات اپنی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرے گا، جو کہ 15 سال قبل بند کر دی گئی تھی۔

حکومتی مؤقف

قیمتوں کی ڈی ریگولیشن ابھی نہیں کی جا رہی۔ پیٹرولیم لیوی، کلائمیٹ لیوی، کسٹمز ڈیوٹی، آئل کمپنیوں اور ڈیلرز کا منافع (مارجن) اور فریٹ ایکولائزیشن مارجن اب بھی حکومت ہی طے کرے گی۔”

موجودہ وقت میں پیٹرول پر تقریباً 110 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 96 روپے فی لیٹر سرکاری ٹیکسز اور مارجنز لاگو ہیں، جن میں تبدیلی کا اختیار صرف حکومت کے پاس ہے۔

پاکستان کے غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر جو ماہ کے آغاز میں 23.99 ارب ڈالر تھے، 10 جولائی تک گر کر 22.67 ارب ڈالر رہ گئے ہیں، جو کہ تقریباً 3 ماہ کی درآمدات کے لیے بمشکل کافی ہیں۔

اس سے قبل مارچ کے پہلے ہفتے میں ‘آبنائے ہرمز’ کی بندش کے بعد پیدا ہونے والے بحران کے جواب میں یہ سخت اقدامات نافذ کیے گئے تھے، جنہیں جون کے تیسرے ہفتے میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد ختم کر دیا گیا تھا۔ اب عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اچانک اچھال آنے پر ان اقدامات کی واپسی ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کا10 سالہ اقتدار، محکموں سے سیاسی مداخلت کا خاتمہ نہ ہو سکا

ہفتے میں 4 دن کام اور ملازمین کی 50 فیصد حاضری۔ سرکاری گاڑیوں کے استعمال میں 50 فیصد کٹوتی اور آن لائن اجلاس۔ سرکاری خزانے سے بھاری تنخواہیں لینے والوں کی آمدن میں کٹوتی۔

غیر ملکی دوروں پر پابندی اور شاہراہوں پر گاڑیوں کی رفتار کی حد مقرر کرنا۔ تعلیمی اداروں میں آن لائن کلاسز کی حوصلہ افزائی اور بازاروں کے اوقات کار کی پابندی۔

حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو روزانہ کی بنیاد پر تبدیل کرنا اور ساتھ ہی ایندھن بچت مہم کا آغاز، اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ملکی معیشت بیرونی جھٹکوں کو برداشت کرنے کی سکت کھو چکی ہے۔

حکومت اسے ‘ڈی ریگولیشن’ کا نام دے کر اپنی سیاسی جوابدہی سے بچنا چاہتی ہے، لیکن حقیقت میں تمام ٹیکسز اور کمپنیوں کے مارجنز پر کنٹرول برقرار رکھ کر وہ عوام کو کوئی ریلیف دینے کے موڈ میں نہیں ہے۔

روزانہ قیمتیں بدلنے سے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال بڑھے گی، جس کا براہِ راست اثر روزمرہ کی اشیاء کی قیمتوں پر پڑے گا۔

کفایت شعاری اقدامات جیسے کہ 4 روزہ ورک ویک عارضی طور پر تو امپورٹ بل کم کر سکتا ہے، لیکن اس سے کاروباری سرگرمیاں اور پیداواری صلاحیت شدید متاثر ہو گی۔

جب تک پاکستان اپنے توانائی کے ذرائع کو مقامی اور متبادل توانائی پر منتقل نہیں کرتا، تب تک مشرقِ وسطیٰ کی معمولی سی چنگاری بھی ملکی معیشت کو اسی طرح جھلساتی رہے گی۔

Related Articles