ایران میں حکومت نے زیادہ مقدار میں پیٹرول استعمال کرنے والے صارفین کے لیے ایندھن کی قیمت میں نمایاں اضافے کا اعلان کردیا ہے۔ نئی قیمت کا اطلاق 8 ستمبر سے ہوگا تاہم ماہانہ مقررہ حد تک پیٹرول استعمال کرنے والے صارفین کے لیے موجودہ نرخ برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے پٹرولیم سے متعلق نئی قیمتوں کے بارے میں اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ ایسے صارفین جو ایک ماہ کے دوران 110 لیٹر سے زیادہ پیٹرول استعمال کریں گے، انہیں اضافی مقدار کے لیے زیادہ قیمت ادا کرنا ہوگی۔ ان کے مطابق 110 لیٹر سے زائد پیٹرول کی قیمت 10 ہزار تومان فی لیٹر مقرر کی گئی ہےجبکہ اس سے قبل یہی مقدار 5 ہزار تومان فی لیٹر کے حساب سے دستیاب تھی۔
یہ بھی پڑھیں :امریکہ کو ایران جنگ میں کون پھنسانے کی کوشش کر رہا ہے ، ٹرمپ کا بڑاانکشاف
حکومت کے مطابق نئی قیمت کا مقصد زیادہ پیٹرول استعمال کرنے والے صارفین کے لیے ایندھن کے استعمال کو محدود کرنا اور غیر ضروری کھپت کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مقررہ حد تک پیٹرول استعمال کرنے والے عام صارفین پر اس فیصلے کا براہ راست اثر نہیں پڑے گا۔
ایرانی حکومت کی ترجمان نے واضح کیا کہ ماہانہ 110 لیٹر تک پیٹرول استعمال کرنے والے صارفین کے لیے قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی جارہی۔ اس طرح کم یا معمول کے مطابق پیٹرول استعمال کرنے والے شہری پہلے سے نافذ نرخوں کے تحت ہی ایندھن حاصل کرتے رہیں گے۔
ایران میں اس وقت پیٹرول کے لیے مختلف نرخ مقرر ہیں۔ ماہانہ ابتدائی 60 لیٹر پیٹرول 1500 تومان فی لیٹر کے حساب سے فراہم کیا جاتا ہے جبکہ اس کے بعد اگلے 50 لیٹر کے لیے فی لیٹر قیمت 3 ہزار تومان مقرر ہے۔ یوں صارفین کو مقررہ مقدار کے اندر مختلف درجوں کے تحت پیٹرول فراہم کیا جاتا ہے۔
حکومت کے نئے فیصلے کے مطابق 110 لیٹر کی ماہانہ حد عبور کرنے کے بعد استعمال ہونے والے پیٹرول پر قیمت میں نمایاں اضافہ ہوجائے گا۔ موجودہ 5 ہزار تومان کے مقابلے میں اضافی پیٹرول کی نئی قیمت 10 ہزار تومان فی لیٹر ہوگی، جس کا اطلاق 8 ستمبر سے کیا جائے گا۔
حکام کی جانب سے یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران میں ایندھن کے استعمال، توانائی کے وسائل کے بہتر انتظام اور پیٹرول کی کھپت کو کنٹرول کرنے کے معاملات اہمیت اختیار کرچکے ہیں۔ حکومت مختلف اقدامات کے ذریعے ایندھن کے غیر ضروری استعمال کو کم کرنے اور دستیاب وسائل کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق نئی قیمتوں کا نظام عام صارفین کو متاثر کرنے کے بجائے زیادہ مقدار میں پیٹرول استعمال کرنے والے صارفین کو ہدف بنائے گا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ بنیادی ضرورت کے مطابق پیٹرول استعمال کرنے والے شہریوں کے لیے موجودہ نرخ برقرار رکھنا ضروری ہے، جبکہ مقررہ حد سے زیادہ استعمال پر اضافی قیمت عائد کی جاسکتی ہے۔