گرمیوں میں مٹکے یا گھڑے کا پانی پینا برصغیر کی ایک قدیم روایت ہے، اور اب مختلف سائنسی تحقیقات بھی اس کے بعض ممکنہ فوائد کی نشاندہی کر رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق بغیر گلیز والے مٹی کے برتن میں رکھا گیا پانی نہ صرف قدرتی انداز میں ٹھنڈا رہتا ہے بلکہ اس کے دیگر فوائد بھی ہو سکتے ہیں۔
قدرتی ٹھنڈک
مٹی کے برتن میں باریک سوراخ ہوتے ہیں، جن کے ذریعے پانی کی معمولی مقدار بخارات بن کر خارج ہوتی ہے۔ اس عمل سے پانی کا درجہ حرارت قدرتی طور پر تقریباً 4 سے 5 ڈگری سینٹی گریڈ تک کم ہو سکتا ہے، اور اس کے لیے بجلی کی ضرورت بھی نہیں پڑتی۔
بعض تحقیقات کے مطابق مٹی کے برتن پانی میں کیلشیم، میگنیشیم اور پوٹاشیم جیسے معدنیات کی معمولی مقدار شامل کر سکتے ہیں، جس سے پانی کا پی ایچ قدرے الکلائن ہو سکتا ہے۔ اگرچہ اس کے صحت پر اثرات کے بارے میں مزید تحقیق درکار ہے، لیکن بعض ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ہاضمے کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔
ذائقہ اور ہاضمہ
روایتی طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ مٹکے کا پانی ہلکا مٹیالا ذائقہ رکھتا ہے، جو کئی افراد کو پسند آتا ہے۔ بعض روایات کے مطابق یہ تیزابیت کم کرنے اور نظامِ ہضم کو بہتر بنانے میں بھی مددگار ہو سکتا ہے، تاہم ان دعوؤں کے لیے مزید سائنسی شواہد درکار ہیں۔ مٹی کا برتن پلاسٹک سے پاک، قدرتی اور بایوڈیگریڈیبل ہوتا ہے، اس لیے یہ ماحول دوست متبادل بھی سمجھا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق پانی کو مٹکے میں تقریباً 6 سے 8 گھنٹے رکھنے کے بعد استعمال کرنا بہتر ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ مٹکے کو ہر 2 سے 3 دن بعد اچھی طرح صاف کرنا ضروری ہے تاکہ اس میں کائی یا بیکٹیریا پیدا نہ ہوں۔