چینی کا ایک دانہ بھی چیونٹیوں سے کیوں نہیں چھپتا؟ سائنس نے حیران کن راز بتا دیا

چینی کا ایک دانہ بھی چیونٹیوں سے کیوں نہیں چھپتا؟ سائنس نے حیران کن راز بتا دیا

اگر باورچی خانے میں چینی کے چند دانے گر جائیں یا مٹھائی کا کوئی چھوٹا سا ٹکڑا رہ جائے تو کچھ ہی دیر میں وہاں چیونٹیوں کی قطار لگ جانا ایک عام بات ہے۔ بظاہر یہ معمولی منظر لگتا ہے، لیکن سائنس دانوں کے مطابق اس کے پیچھے ایک نہایت منظم اور حیرت انگیز حیاتیاتی نظام کام کرتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چیونٹیوں کی غیر معمولی سونگھنے کی صلاحیت ان کے اینٹینا (سینگ نما اعضا) میں موجود ہوتی ہے۔ یہی اینٹینا انہیں ایسے کیمیائی سگنلز محسوس کرنے کے قابل بناتے ہیں جنہیں انسان نہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ ہی سونگھ سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے چیونٹیاں انتہائی معمولی مقدار میں گری ہوئی میٹھی خوراک کا بھی سراغ لگا لیتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:738 دن درخت پر گزارنے والی خاتون، جس نے ہزار سال پرانا جنگل کٹنے سے بچا لیا

میڈیا رپورٹ کے مطابق ہر چیونٹی کالونی میں مزدور چیونٹیوں کا ایک گروہ مسلسل خوراک کی تلاش میں رہتا ہے۔ یہ چیونٹیاں دیواروں کی دراڑوں، فرش کے کناروں، دروازوں کی دہلیز اور باورچی خانے کے مختلف حصوں کا باریک بینی سے جائزہ لیتی ہیں۔ جیسے ہی انہیں چینی، شربت، مٹھائی یا کوئی اور میٹھی چیز ملتی ہے، وہ فوراً اس کی شناخت کر لیتی ہیں۔

سال 2021 میں شائع ہونے والی ایک سائنسی تحقیق کے مطابق چیونٹیوں کے اینٹینا اور اگلی ٹانگوں پر موجود خصوصی ذائقہ محسوس کرنے والے ریسیپٹرز انہیں صرف چھونے سے بھی یہ جاننے کی صلاحیت دیتے ہیں کہ سامنے موجود چیز میٹھی ہے یا نہیں، جس سے خوراک کی فوری شناخت ممکن ہو جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:جاپان کے انوکھے فروٹ بس اسٹاپ، جہاں سفر بھی بن جاتا ہے یادگار

خوراک ملنے کے بعد چیونٹی واپس جاتے ہوئے راستے میں فیرومونز نامی ایک خاص کیمیائی مادہ چھوڑتی جاتی ہے۔ یہی فیرومونز دوسری چیونٹیوں کے لیے رہنمائی کا کام کرتے ہیں، جو اسی راستے پر چلتے ہوئے سیدھا خوراک تک پہنچ جاتی ہیں۔

امریکی محکمہ زراعت کی زرعی تحقیقاتی سروس کے مطابق فیرومونز قدرتی نیوی گیشن سسٹم کی طرح کام کرتے ہیں۔ بعض ماہرین نے اس نظام کو جدید گوگل میپس سے تشبیہ دی ہے کیونکہ یہ پوری کالونی کو خوراک تک پہنچنے کا درست راستہ فراہم کرتا ہے۔

1993 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق یہ کیمیائی راستے تقریباً 47 منٹ تک مؤثر رہتے ہیں، جو دوسری مزدور چیونٹیوں کو خوراک تک پہنچنے اور اسے کالونی میں منتقل کرنے کے لیے کافی وقت فراہم کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :دریاؤں کی صفائی کے لیے قدرتی حل؟ آبی پودوں پر اہم تحقیق سامنے آگئی

ماہرینِ حشرات کے مطابق چیونٹیوں کے اینٹینا صرف سونگھنے کے لیے نہیں ہوتے بلکہ رابطے، سمت کے تعین، خطرات سے آگاہی اور اپنی کالونی کے افراد کی شناخت میں بھی بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر اینٹینا متاثر ہو جائیں تو چیونٹیوں کے لیے نہ صرف خوراک تلاش کرنا بلکہ اپنی کالونی تک واپس پہنچنا بھی انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق چیونٹیوں کا یہ اجتماعی اور کیمیائی مواصلاتی نظام فطرت کے مؤثر ترین حیاتیاتی نظاموں میں شمار ہوتا ہے، جو انہیں چند لمحوں میں معمولی سے معمولی میٹھی خوراک تک پہنچنے کے قابل بناتا ہے۔

editor

Related Articles