جیل کے قیدیوں کو 2 لاکھ بلاسود قرضہ ملے گا ، نیا پروگرام آ گیا

جیل کے قیدیوں کو 2 لاکھ بلاسود قرضہ ملے گا ، نیا پروگرام آ گیا

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے جیل اصلاحات  ایجنڈے کے تحت پنجاب کی جیلوں سے رہا ہونے والے مستحق قیدیوں کی بحالی انہیں باعزت روزگار کی فراہمی اور دوبارہ معاشرے کا مفید شہری بنانے کے لیے نیا آغاز پروگرام کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت اہل اور مستحق سابق قیدیوں کو اپنا کاروبار شروع کرنے کے لیے دو لاکھ روپے تک کا بلاسود قرض (قرض حسنہ) فراہم کیا جائے گا۔

اس منصوبے کے لیے محکمہ داخلہ پنجاب اور اخوت اسلامک مائیکروفنانس کے درمیان مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ ایم او یو پر ڈی آئی جی پریزن احمد نوید گوندل اور اخوت اسلامک مائیکروفنانس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر کامران شمس نے دستخط کیے۔

تقریب میں چیئرمین وزیراعلیٰ پنجاب ٹاسک فورس برائے جیل خانہ جات رانا منان خان سیکرٹری داخلہ ڈاکٹر احمد جاوید قاضی، چیئرمین اخوت فاؤنڈیشن ڈاکٹر امجد ثاقب، آئی جی پریزن میاں سالک جلال، سپیشل سیکرٹری داخلہ زینب خان، سپیشل سیکرٹری داخلہ فیصل فرید، ایڈیشنل سیکرٹری پریزن رومان بورانہ، چیف کریڈٹ آفیسر شہزاد اکرم، ڈپٹی سیکرٹری تہنیت بخاری، چیف سائیکالوجسٹ پریزن سعدیہ ظفر سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب کو جوہری پروگرام کی اجازت ، ٹرمپ نے منظوری دے دی

حکام نے بتایا کہ اس پروگرام کے تحت فراہم کیے جانے والے قرض حسنہ کی واپسی 36 ماہ کی آسان اور مساوی ماہانہ اقساط میں کی جائے گی۔ قرض واپس ہونے کے بعد یہی رقم دوبارہ فنڈ میں شامل کی جائے گی تاکہ مزید مستحق افراد بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں، یوں یہ منصوبہ ایک خودکار اور پائیدار نظام کے تحت چلتا رہے گا۔

سپیشل سیکرٹری داخلہ زینب خان نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ قرض کے لیے ہر رہا ہونے والا قیدی اہل نہیں ہوگا بلکہ پنجاب پریژن ڈیپارٹمنٹ رہائی سے قبل قیدی کے کردار، دورانِ قید رویے، نظم و ضبط اور حاصل کردہ فنی مہارت کا تفصیلی جائزہ لے گا۔ صرف وہی افراد قرض کے لیے سفارش کیے جائیں گے جن کے بارے میں یہ یقین ہو کہ وہ کاروبار شروع کر کے خود کفیل بن سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اخوت اسلامک مائیکروفنانس ممکنہ درخواست گزاروں کے لیے آگاہی سیشنز منعقد کرے گا، درخواستوں کی جانچ کرے گا اور منصوبے کے تمام انتظامی و آپریشنل اخراجات بھی خود برداشت کرے گا۔ اس پروگرام کے نفاذ سے نہ تو محکمہ داخلہ پنجاب اور نہ ہی پنجاب جیل خانہ جات پر کوئی اضافی مالی بوجھ آئے گا۔

یہ بھی پڑھیں:سوزوکی نے گاڑی مہنگی کر دی، 7 لاکھ روپے اضافہ

حکام کے مطابق پنجاب کی جیلوں میں پہلے ہی ہنرمند اسیر پروگرام کے تحت قیدیوں کو 23 مختلف شعبوں میں فنی تربیت دی جا رہی ہے جبکہ انہیں سرٹیفائیڈ ووکیشنل ٹریننگ بھی فراہم کی جا رہی ہے تاکہ رہائی کے بعد وہ روزگار حاصل کرنے یا اپنا کاروبار شروع کرنے کے قابل ہو سکیں۔

چیئرمین وزیراعلیٰ پنجاب ٹاسک فورس برائے جیل خانہ جات رانا منان خان نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر جیلوں کو صرف سزا کی جگہ نہیں بلکہ اصلاح  تربیت اور بحالی کے مراکز میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قیدی سزا پوری کرنے کے بعد اگر معاشرے میں باعزت روزگار حاصل کر سکیں تو جرائم کی شرح میں بھی نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔

اس موقع پر ڈاکٹر امجد ثاقب نے کہا کہ نیا آغاز پروگرام مکمل طور پر سود سے پاک ہے اور اس کا مقصد رہا ہونے والے مستحق افراد کو معاشی خودمختاری دینا، انہیں باعزت زندگی گزارنے کا موقع فراہم کرنا اور دوبارہ جرائم کی طرف جانے کے امکانات کو کم کرنا ہے۔

editor

Related Articles