پاکستان کا 2 ارب ڈالر کے عالمی بانڈز جاری کرنے کا بڑا فیصلہ

پاکستان کا 2 ارب ڈالر کے عالمی بانڈز جاری کرنے کا بڑا فیصلہ

وفاقی حکومت نے بیرونی مالیاتی حکمتِ عملی کو مستحکم کرنے کے لیے مالی سال 27-2026 کے دوران عالمی بانڈز کے ذریعے کم از کم 2 ارب ڈالر جمع کرنے کی خاطر بین الاقوامی بینکنگ کنسورشیم کا تعیّن کر لیا ہے۔

تعینات کیے گئے بین الاقوامی بینک پاکستان کو گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ پروگرام اور انٹرنیشنل سکوک پروگرام کے تحت روایتی اور اسلامی مالیاتی اسناد (ڈیٹ انسٹرومنٹس) کے اجرا پر مشورے فراہم کریں گے۔

 فنڈز اکٹھا کرنے کے اس منصوبہ بندی میں یورو بانڈز، بین الاقوامی صکوک، اور پاکستانی روپے پر مبنی امریکی ڈالر میں سیٹل ہونے والے بانڈز شامل ہوں گے۔

یورو بانڈ پروگرام کے لیے حکومت نے سٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک، سٹی بینک، ڈوئچے بینک اے جی، ایمریٹس این بی ڈی کیپٹل اور ایم یو ایف جی سیکیورٹیز ایشیا لمیٹڈ کا انتخاب کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:رواں مالی سال 30 کروڑ ڈالر کے پانڈا بانڈز جاری کرنے میں تاخیر

دوسری جانب بین الاقوامی صکوک کے لیے منتخب کردہ کنسورشیم میں سٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک، دبئی اسلامک بینک پی جے ایس سی، سٹی بینک، ایمریٹس این بی ڈی کیپٹل اور مشرق بینک پی ایس سی شامل ہیں۔

مزید برآں پاکستانی روپے پر مبنی امریکی ڈالر میں سیٹل ہونے والے بانڈز کے لیے سٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک، سٹی بینک، اور ڈوئچے بینک اے جی کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔

وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے واشنگٹن سے ان منتخب کردہ بینکنگ کنسورشیمز کے سینیئر حکام کے ساتھ آن لائن اجلاس کی صدارت کی اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ حکومت کی اس شراکت داری کا باقاعدہ آغاز کیا۔

وزارتِ خزانہ کے مطابق پاکستان کی جانب سے مستقبل میں جاری کیے جانے والے ان تمام بانڈز میں روایتی اور اسلامی دونوں قسم کے مالیاتی طریقے شامل ہوں گے۔

حکومت درکار دستاویزی اور قانونی کارروائیاں مکمل کرنے کے بعد اپنی طویل المیعاد مالیاتی حکمتِ عملی کے تحت باقاعدگی سے ان بانڈز کا اجراء جاری رکھے گی۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ تعیّن صرف ایک بار فنڈز اکٹھے کرنے کی مشق نہیں ہے بلکہ یہ ایک متنوع اور پائیدار بیرونی مالیاتی نظام قائم کرنے کی وسیع تر کوشش کا حصہ ہے۔

مزید پڑھیں:15 لاکھ روپے کا انعام کس نے جیتا؟ 750 روپے کے پرائز بانڈ کا نتیجہ جاری

اس اقدام میں ایم یو ایف جی سیکیورٹیز اور مشرق بینک کی شمولیت سے دنیا کے دیگر اہم مالیاتی اداروں کے ساتھ پاکستان کی شراکت داری کا دائرہ کار مزید وسیع ہو گیا ہے۔

پاکستان طویل عرصے سے اپنے بیرونی ادائیگیوں کے توازن اور زرمبادلہ کے ذخائر کو برقرار رکھنے کے لیے عالمی مالیاتی اداروں (مثلاً آئی ایم ایف) اور دوست ممالک سے حاصل ہونے والے دو طرفہ قرضوں پر انحصار کرتا رہا ہے۔

تاہم، بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹس تک رسائی حاصل کرنا کسی بھی ملک کی معاشی صحت اور خود مختاری کا اہم اشاریہ سمجھا جاتا ہے۔

ماضی میں پاکستان نے کامیابی کے ساتھ یورو بانڈز اور صکوک جاری کر کے عالمی سرمایہ کاروں سے اربوں ڈالر اکٹھے کیے تھے، لیکن عالمی شرحِ سود میں اضافے اور ملکی ریٹنگز کے مسائل کی وجہ سے چند برسوں سے کمرشل اور کیپٹل مارکیٹس کا راستہ محدود ہو گیا تھا۔

اب معاشی استحکام کی طرف گامزن ہونے کے بعد عالمی منڈیوں میں دوبارہ واپسی سے ملک کی کریڈٹ ریٹنگ اور مالیاتی ساکھ کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

عالمی سطح پر 2 ارب ڈالر کے بانڈز کے اجرا اور نامور بین الاقوامی بینکوں کے تعیّن کا فیصلہ پاکستان کے معاشی منظر نامے کے لیے ذیل کے چند انتہائی اہم پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہے۔

بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا بحال ہوتا اعتماد

 ورلڈ کلاس بینکوں (مثلاً ڈوئچے بینک، سٹی بینک اور ایم یو ایف جی) کا پاکستان کے کنسورشیم میں شامل ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے پاکستان کی معاشی اصلاحات اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت پر دوبارہ اعتماد ظاہر کر رہے ہیں۔

قرضوں کی نوعیت میں تنوع

 صرف آئی ایم ایف یا ملٹی لیٹرل اداروں کے قرضوں پر انحصار کرنے کے بجائے عالمی کمرشل کیپٹل مارکیٹ سے فنڈز کا حصول پاکستان کے لیے مالیاتی ذرائع کو متنوع بناتا ہے۔ اسلامی صکوک اور ‘پاکستانی روپیہ ڈینومینیٹڈ امریکی ڈالر سیٹلڈ بانڈز’ کا تعارف عالمی سطح پر غیر ملکی سرمایہ کاروں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کا ایک منفرد اوزار ثابت ہو سکتا ہے۔

زرمبادلہ پر مثبت اثرات

 مالی سال 27-2026 میں ان بانڈز کے ذریعے 2 ارب ڈالر کا ہدف پورا ہونے سے اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط سہارا ملے گا اور روپے کی قدر کو مستحکم رکھنے میں مدد ملے گی۔

تاہم اس کامیابی کا تمام تر انحصار اس بات پر ہوگا کہ اس وقت عالمی مارکیٹ میں پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کیا رہتی ہے تاکہ حکومت کو مناسب شرحِ سود پر یہ فنڈز میسر آ سکیں۔

Related Articles