وفاقی حکومت نے سول سرونٹس کے لیے غیر ملکی شہریت، غیر ملکی پاسپورٹ، رہائشی اجازت ناموں اور دیگر سفری دستاویزات سے متعلق قواعد مزید سخت کرتے ہوئے تمام سرکاری ملازمین پر لازمی قرار دیا ہے کہ وہ اپنی اور اپنے زیرِ کفالت افراد کی متعلقہ معلومات حلفیہ ڈیکلریشن کے ذریعے حکومت کو فراہم کریں۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے سول سرونٹس (غیر ملکی شہریت) رولز 2026 کے تحت نئے ڈیکلریشن فارم جاری کر دیے ہیں جن کا مقصد وفاقی سرکاری ملازمین کے غیر ملکی روابط، شہریت اور سفری دستاویزات کا مکمل اور شفاف ریکارڈ مرتب کرنا ہے۔ حکام کے مطابق اس اقدام سے سرکاری ملازمین کے ریکارڈ کو جدید تقاضوں کے مطابق اپ ڈیٹ رکھا جا سکے گا۔
نئے قواعد کے تحت ہر وفاقی سرکاری ملازم کو ملازمت میں شمولیت کے وقت اپنی غیر ملکی شہریت غیر ملکی پاسپورٹ، مستقل رہائشی کارڈ (Permanent Residence Card) رہائشی اجازت نامے (Residence Permit) اور دیگر متعلقہ قانونی یا سفری دستاویزات کی مکمل تفصیلات فراہم کرنا ہوں گی۔ اس کے علاوہ ہر ملازم سالانہ بنیاد پر بھی نیا ڈیکلریشن جمع کرانے کا پابند ہوگا تاکہ اگر کسی معلومات میں تبدیلی آئی ہو تو اسے سرکاری ریکارڈ کا حصہ بنایا جا سکے۔
حکومت نے نئے ضوابط کا دائرہ صرف سرکاری ملازم تک محدود نہیں رکھا بلکہ اس کے زیرِ کفالت اہلِ خانہ کو بھی شامل کیا ہے اگر کسی ملازم کے زیرِ کفالت فرد کے پاس غیر ملکی شہریت، غیر ملکی پاسپورٹ یا مستقل رہائش کا اجازت نامہ موجود ہے تو اس کی مکمل تفصیلات بھی ڈیکلریشن فارم میں درج کرنا لازمی ہوں گی۔
اسی طرح اگر کسی سرکاری ملازم نے کسی غیر ملکی شہری سے شادی کی ہے تو اسے نہ صرف اس شادی کی تفصیلات فراہم کرنا ہوں گی بلکہ اگر اس کے لیے حکومت سے اجازت حاصل کی گئی تھی تو اس کی معلومات بھی ڈیکلریشن کا حصہ بنانا ہوں گی۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے واضح کیا ہے کہ اگر کسی سرکاری ملازم کی غیر ملکی شہریت، پاسپورٹ، رہائشی حیثیت یا دیگر متعلقہ معلومات میں بعد ازاں کوئی تبدیلی آتی ہے تو وہ تبدیلی 90 دن کے اندر متعلقہ اتھارٹی کو تحریری طور پر آگاہ کرنا لازمی ہوگی۔ اس شرط کا مقصد سرکاری ریکارڈ کو ہر وقت درست اور اپ ڈیٹ رکھنا ہے۔
حکام کے مطابق اگر کوئی ملازم ملازمت کے آغاز میں اہم معلومات چھپاتا ہے غلط یا نامکمل ڈیکلریشن جمع کراتا ہے یا جان بوجھ کر جھوٹی معلومات فراہم کرتا ہے تو اس کے خلاف محکمانہ کارروائی کے ساتھ ساتھ متعلقہ قوانین کے تحت قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
حکومت کے اس اقدام کا مقصد وفاقی اداروں میں شفافیت، احتساب اور حساس سرکاری عہدوں پر تعینات ملازمین کے غیر ملکی روابط کا واضح ریکارڈ رکھنا ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی قسم کے مفادات کے ٹکراؤ یا قانونی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔
نئے قواعد کے نفاذ کے بعد تمام وفاقی وزارتوں ڈویژنز اور ماتحت اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے ملازمین سے مقررہ فارم پر معلومات حاصل کرکے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے ریکارڈ کو بروقت اپ ڈیٹ کریں۔