جنوبی افریقا کے کسان ماریئس ایلس کی کہانی آج بھی اس حقیقت کی یاد دلاتی ہے کہ جنگلی جانور، چاہے کتنی ہی محبت اور دیکھ بھال سے پالے جائیں، اپنی فطری جبلت مکمل طور پر نہیں چھوڑتے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ماریئس ایلس نے سیلاب میں بہہ جانے والے ایک یتیم دریائی گھوڑے (ہپو) کے بچے ہمفری کو بچایا اور اپنے فارم پر اس کی پرورش کی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ہمفری ان کے خاندان کا حصہ بن گیا۔
بتایا جاتا ہے کہ ماریئس نہ صرف اسے اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلاتے تھے بلکہ اس کے ساتھ وقت گزارتے، کھیلتے اور یہاں تک کہ اس کے ساتھ تیراکی بھی کرتے تھے۔ ان کی ہمفری کے ساتھ تصاویر اور ویڈیوز بھی دنیا بھر میں توجہ کا مرکز بنی تھیں۔
تاہم، جب ہمفری بالغ ہوا تو 2011 میں اس نے اچانک ماریئس ایلس پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں وہ جانبر نہ ہو سکے۔ ماہرین کے مطابق دریائی گھوڑا دنیا کے خطرناک ترین جنگلی جانوروں میں شمار ہوتا ہے اور بظاہر پرسکون نظر آنے کے باوجود یہ انتہائی جارحانہ رویہ اختیار کر سکتا ہے، خاص طور پر بالغ ہونے کے بعد۔
یہ واقعہ اس بات کی اہم یاد دہانی ہے کہ جنگلی جانوروں کی فطری جبلت کو مکمل طور پر تبدیل نہیں کیا جا سکتا، چاہے انہیں برسوں تک انسانوں کے درمیان ہی کیوں نہ پالا جائے۔