عوام دو تہائی اکثریت دیں مسائل میں حل کرائوں گا،بلاول بھٹو

عوام دو تہائی اکثریت دیں مسائل میں حل کرائوں گا،بلاول بھٹو

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کا مستقبل اس الیکشن سے وابستہ ہے، عوام ایسا فیصلہ کریں جو ان کے روشن مستقبل کی ضمانت بنے، انہوں نے کہا کہ اگر عوام پیپلز پارٹی کو دو تہائی اکثریت دیتے ہیں تو آئینی ترمیم لائیں گے اور مسائل حل کریں گے ۔

میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ میرپور آکر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اپنے دوسرے گھر آیا ہوں، پیپلز پارٹی کا میرپور کے عوام سے تین نسلوں پر محیط رشتہ ہے، انہوں نے کہا کہ اپنے بزرگوں کی جدوجہد کو آگے بڑھائیں گے اور امید ہے کہ جیالے کامیاب ہو کر عوام کی خدمت کریں گے۔

یہ عام نہیں بلکہ تاریخ کا اہم ترین الیکشن ہے

بلاول بھٹو نے کہا کہ موجودہ انتخابات عام انتخابات نہیں بلکہ تاریخ کے اہم ترین انتخابات ہیں، کیونکہ عوام کے فیصلے سے آزاد کشمیر کا مستقبل وابستہ ہے،انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کو متفقہ آئین دیا اور ملک کو ایٹمی قوت بنایا، جبکہ صدر آصف علی زرداری نے صوبوں کو حقوق دے کر تاریخ رقم کی۔

آئینی ترمیم اور این ایف سی میں نمائندگی کا وعدہ

پیپلز پارٹی چیئرمین نے کہا کہ اگر عوام دو تہائی اکثریت دیں تو وہ آئینی ترمیم لائیں گے، آزاد کشمیر کو این ایف سی میں نمائندگی دلانے کی کوشش کریں گے جبکہ او آئی سی میں بھی کشمیری عوام کی مؤثر آواز اٹھائی جائے گی،انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام کی آواز فیصلہ ساز اداروں تک پہنچنی چاہیے، کیونکہ اختلافِ رائے قوموں کو کمزور نہیں بلکہ مضبوط بناتا ہے۔

کشمیر کا فیصلہ کشمیری عوام کریں گے

بلاول بھٹو نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو حقِ حاکمیت دلانے کیلئے پرعزم ہیں اور آزاد کشمیر کے عوام کے حقوق کیلئے بھی جدوجہد جاری رکھیں گے،انہوں نے کہا کہ کشمیر کا فیصلہ سندھ یا پنجاب نہیں بلکہ کشمیری عوام خود کریں گے۔

احتجاجی صورتحال کے حل کیلئے کمیشن بنانے کی تجویز

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال بہتر بنانے کیلئے وفاقی حکومت اور احتجاج کرنے والوں کے درمیان کمیشن قائم کیا جائے تاکہ حقائق سامنے آسکیں اور ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے،انہوں نے کہا کہ اگر کسی سے غلطی ہوئی ہے تو کمیشن اس کا فیصلہ کرے، جبکہ ابھی تک ان کی تجویز کا جواب نہیں دیا گیا، حالانکہ یہی موجودہ بحران سے نکلنے کا بہترین راستہ ہے۔

انٹرنیٹ بندش پر اظہار تشویش

بلاول بھٹو نے کہا کہ احتجاج کرنے والوں کی ناراضی کی سزا آزاد کشمیر کے عوام کو نہیں دینی چاہیے، انہوں نے مظاہرین سے پرامن احتجاج کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ پورے کشمیر کو سزا دینا پرانا طریقہ کار ہے۔

انہوں نے آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ سروس کی بندش کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عوام کے ساتھ ظلم ہے، انہوں نے صدر آزاد کشمیر سے مطالبہ کیا کہ وہ الیکشن کمیشن سے پوچھیں کہ انٹرنیٹ بند ہونے کی صورت میں شفاف انتخابات کیسے ممکن ہوں گے۔

متنازع بیان پر وفاقی وزیر سے معافی کا مطالبہ

بلاول بھٹو نے مخالفین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایک وفاقی وزیر کا بیان انتہائی نامناسب تھا، لیکن مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے اس کی مذمت نہیں کی،انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی وزیر اپنے بیان پر معافی مانگیں یا عہدہ چھوڑ دیں، بصورت دیگر اس بیان کو مسلم لیگ (ن) کی پالیسی تصور کیا جائے گا۔

عوام سے پیپلز پارٹی کو کامیاب بنانے کی اپیل

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ کوئی یہ فیصلہ نہیں کر سکتا کہ کون کشمیری ہے اور کون نہیں،تم کون ہوتے ہو یہ فیصلہ کرنے والے، میرپور اور راولاکوٹ سمیت تمام علاقے کشمیر کا حصہ ہیں،انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ الیکشن میں پیپلز پارٹی کو کامیاب بنائیں، ہم ثابت کریں گے کہ کشمیری عوام ہمارے ساتھ ہیں۔

editor

Related Articles