سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں ایک بھارتی نوجوان نے دعویٰ کیا ہے کہ اسے ایک مارکیٹنگ ایجنسی کی جانب سے بھاری معاوضے کے عوض بھارتی حکومت کے حق میں اور ملک میں جاری طلبہ و نوجوانوں کے احتجاج کے خلاف ویڈیو بنانے کی پیشکش کی گئی۔ نوجوان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی مہم کا مقصد حکومت کی کارکردگی کے بارے میں مثبت تاثر اجاگر کرنا تھا۔
وائرل ویڈیو میں نوجوان نے بتایا کہ اسے ایک مارکیٹنگ ایجنسی کی جانب سے ایسی ویڈیو تیار کرنے کی پیشکش موصول ہوئی جس میں مودی حکومت کے حق میں مؤقف اختیار کرنے اور ملک میں جاری طلبہ و نوجوانوں کے احتجاج کو منفی انداز میں پیش کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔
🚨🇮🇳 INDIAN YOUTH CJP PROTESTER EXPOSES INDIAN GOVT AND ARMY PR OFFERS
Indian BJP government is offering paid PR campaigns to create videos supporting the government and opposing youth protests across India.
نوجوان کے مطابق اسے گزشتہ رات ایک ای میل موصول ہوئی جس میں مبینہ طور پر حکومت کے حق میں ویڈیو بنانے کے عوض 40 ہزار بھارتی روپے کی پیشکش کی گئی۔ اس کا کہنا تھا کہ ای میل میں یہ بھی بتایا گیا کہ ویڈیو کا مکمل اسکرپٹ بھی فراہم کیا جائے گا، جبکہ ویڈیو میں یہ مؤقف اپنانے کو کہا گیا کہ احتجاج کے باعث ملک کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
ویڈیو پیغام میں نوجوان نے سوال اٹھایا کہ اگر ایسی مہمات چلائی جا رہی ہیں تو ان پر خرچ ہونے والی رقم کہاں سے آ رہی ہے اور کیا عوامی وسائل اس مقصد کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ اس نے مزید دعویٰ کیا کہ حکومت پر تنقید کرنے والوں کے خلاف سرکاری اداروں کے استعمال سے متعلق بھی خدشات موجود ہیں۔
بھارتی نوجوان کی وائرل ہونے والی ویڈیو سے یہ واضح رہا ہے کہ پاکستان مخالف مسلسل جھوٹ نے مودی کے میڈیا مہروں پر عوام کا اعتماد ختم کر دیا اور مودی سرکار نے احتجاج دبانے کیلئے سرکاری خزانہ کھول دیا۔ گورو آریا، ارنب گوسوامی اور ادتیہ راج کول کا جھوٹا بیانیہ ہوا بھارتی عوام پر عیاں ہونے کے بعد احتجاج سے گھبرائی مودی سرکار اب پیسوں سے عوام خریدنے کی کوشش کررہی ہے ۔
سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے اس ویڈیو کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور حکومتی بیانیے کے حق میں مبینہ پی آر مہم سے جوڑا، جبکہ بعض پوسٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ احتجاجی مظاہروں کے بعد عوامی تاثر بہتر بنانے کے لیے منظم تشہیری مہم چلائی جا رہی ہے۔