سلمان خان بھی طلبا کے حق میں ، مودی حکومت کیخلاف بول پڑے

سلمان خان بھی طلبا کے حق میں ، مودی حکومت کیخلاف بول پڑے

بالی ووڈ کے معروف اداکار سلمان خان نے طلبا کے احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے تعلیمی نظام میں اصلاحات کے مطالبے کو جائز قرار دیا ہے۔انہوں نے زور دیا کہ یہ معاملہ صرف طلبا اور تعلیمی نظام کے درمیان ہے، اسے سیاسی مفادات کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

سلمان خان نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے تفصیلی بیان میں کہا کہ احتجاج کا آغاز نہایت پُرامن انداز میں ہوا تھا تاہم بعد میں اس نے پرتشدد رخ اختیار کر لیا، جو افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران زخمی ہونے والے طلبا اور ان کے اہل خانہ سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ ان کی دعائیں تمام متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں :بھارتی فوج کی جانب سے نئی دہلی میں طلبہ مظاہرین پر تشدد ، ویڈیو وائرل

بھارتی اداکار نے کہا کہ امتحانی پرچوں کا لیک ہونا ایک انتہائی سنگین مسئلہ ہے جس پر فوری توجہ دی جانی چاہیے۔ تاہم انہیں خوشی ہے کہ ملک بھر کے نوجوان ایک شفاف، منصفانہ اور بہتر تعلیمی نظام کے لیے متحد ہو کر آواز بلند کر رہے ہیں۔

سلمان خان نے ان والدین کو بھی خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے اپنے بچوں کے ساتھ کھڑے ہو کر ان کے جائز مطالبات کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ طلبا نے جس سنجیدگی، خلوص اور محنت کے ساتھ اپنے مستقبل اور بہتر تعلیمی نظام کے لیے جدوجہد کی ہے وہ قابل تعریف ہے۔

انہوں نے کہا کہ نوجوانوں نے احتجاج کے لیے پُرامن اور جمہوری راستہ اختیار کیاجو ایک مثبت طرز عمل ہے۔ ان کے مطابق موجودہ نسل کا تعلیم کے لیے جذبہ مستقبل میں ملک کے لیے نیک شگون ثابت ہو سکتا ہے۔

سلمان خان نے اپنے بیان میں اس بات پر بھی زور دیا کہ طلبا کی تحریک کو سیاسی رنگ نہیں دیا جانا چاہیے اور نہ ہی اسے کسی سیاسی مفاد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ ان کے بقول اس تحریک کا اصل کریڈٹ صرف ان طلبا کو ملنا چاہیے جنہوں نے اپنے حقوق اور بہتر تعلیمی نظام کے لیے آواز بلند کی۔

 یہ بھی پڑھیں :طلبہ پر پولیس کارروائی، بالی ووڈ شخصیات مودی حکومت کے خلاف بول پڑیں

انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت طلبا کے مطالبات کو سنجیدگی سے سنے گی اور تعلیمی نظام کو مزید شفاف، مضبوط اور مؤثر بنانے کے لیے عملی اقدامات کرے گی، کیونکہ اس سے نہ صرف طلبا بلکہ پورا ملک مستفید ہوگا۔

اپنے پیغام کے اختتام پر سلمان خان نے کہا کہ تعلیم کو معاشرے میں ایک نئی سوچ اور مثبت رجحان کا درجہ ملنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر سال تعلیم کی اہمیت میں اضافہ ہونا چاہیے تاکہ مستقبل میں دنیا بھر سے طلبا اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے بھارت کا رخ کریں اور ملک ایک عالمی تعلیمی مرکز کے طور پر ابھر سکے۔

editor

Related Articles