بھارت میں طلبہ کے احتجاج اور نئی دہلی میں پولیس کی جانب سے مظاہرین کے خلاف کی گئی کارروائی پر بالی ووڈ کی متعدد معروف شخصیات نے مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اداکاروں اور فلم سازوں نے طلبہ کے احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے حکومت سے طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
سینئر اداکار نصیرالدین شاہ نے ویڈیو پیغام میں احتجاج کرنے والے طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ انہیں مظاہرین سے مکمل ہمدردی ہے اور وہ ان کی جرات کو سلام پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ مایوس نہ ہوں کیونکہ تاریخ ہمیشہ یہ یاد رکھے گی کہ پرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیسے کیا گیا۔
معروف اداکارہ شبانہ اعظمی بھی نئی دہلی کے جنتر منتر پہنچیں، جہاں انہوں نے مظاہرین سے ملاقات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور حکومت کو چاہیے کہ طلبہ کی آواز دبانے کے بجائے ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے۔
اداکار پرکاش راج بھارتی آئین کی کاپی ہاتھ میں اٹھا کر احتجاج میں شریک ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے مستقبل اور ان کے حقوق کی جدوجہد میں وہ ہمیشہ طلبہ کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
فلم ساز انوراگ کشیپ نے بھی پولیس کی کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اختلافِ رائے کو جرم نہیں بنایا جا سکتا اور جمہوریت میں ہر شہری کو اپنی رائے کے اظہار کا حق حاصل ہے۔
اداکارہ پوجا بھٹ نے طلبہ کے خلاف طاقت کے استعمال کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی تشدد کو اکثر قانون و نظم برقرار رکھنے کے نام پر جائز قرار دیا جاتا ہے، جو افسوسناک ہے۔
اداکارہ سوناکشی سنہا نے احتجاج کے دوران پیش آنے والے پرتشدد واقعات پر افسوس کا اظہار کیا، جبکہ ادیتی راؤ حیدری نے حکومت پر زور دیا کہ وہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر طلبہ سے مکالمہ کرے اور ان کے ساتھ ہمدردی اور احترام کا رویہ اپنائے
دریں اثنا، اداکارہ پریتی زنٹا نے بھی سماجی کارکن سونم وانگچک اور احتجاج کرنے والے طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پیغام جاری کیا۔ انہوں نے سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی، تاہم ساتھ ہی بھارتی حکومت پر زور دیا کہ وہ طلبہ اور سماجی کارکنوں کے ساتھ بامعنی مذاکرات کا آغاز کرے۔ ان کے مطابق یہ جدوجہد بھارت کے نوجوانوں اور ملک کے مستقبل سے جڑی ہوئی ہے۔
اداکار سونو سود نے کہا کہ حکومت کو طلبہ کے ساتھ لاٹھیوں سے نہیں بلکہ کھلے دل سے پیش آنا چاہیے، جبکہ اداکارہ دیا مرزا نے تعلیمی نظام میں شفافیت، اصلاحات اور طلبہ کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
بالی ووڈ کی معروف شخصیات کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب بھارت میں طلبہ کے احتجاج، پولیس کی کارروائی اور حکومت کے طرزِ عمل پر سیاسی و سماجی حلقوں میں بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔