بھارتی فلم ’’دھرندھر‘‘ سے شہرت حاصل کرنے والی اداکارہ عائشہ خان کو ممبئی میں طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس نے حراست میں لے لیا۔ واقعے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد اس پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق عائشہ خان 22 جولائی کو تعلیمی اصلاحات کے حق میں ہونے والے احتجاج سے اظہارِ یکجہتی کے لیے موقع پر موجود تھیں۔ اداکارہ کا دعویٰ ہے کہ وہ صرف سڑک کے کنارے کھڑی تھیں، تاہم پولیس نے انہیں دیگر مظاہرین کے ساتھ زبردستی پولیس وین میں بٹھا کر حراست میں لے لیا۔
عائشہ خان نے انسٹاگرام پر شیئر کی گئی ویڈیوز اور اسٹوریز میں کہا کہ انہیں کسی قانونی وجہ یا الزام سے آگاہ کیے بغیر حراست میں لیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تقریباً 15 پولیس اہلکاروں نے انہیں اور ان کی دو ساتھی خواتین کو گھیر لیا اور پولیس وین میں منتقل کر دیا۔
اداکارہ کے مطابق انہوں نے متعدد بار پولیس سے پوچھا کہ انہیں کس بنیاد پر گرفتار کیا جا رہا ہے، مگر انہیں کوئی واضح جواب نہیں دیا گیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں عائشہ خان کو پولیس اہلکاروں سے گفتگو کرتے اور بعد ازاں پولیس وین کے اندر سے اپنے مداحوں سے مخاطب ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔
اپنی پوسٹس میں اداکارہ نے سوال اٹھایا کہ اگر شہری پرامن انداز میں بھی اپنی رائے کا اظہار نہ کر سکیں تو اظہارِ رائے کی آزادی کی عملی حیثیت کیا رہ جاتی ہے۔ انہوں نے معاشرتی مسائل کے مقابلے میں تفریح اور گلیمر کو غیر معمولی اہمیت دیے جانے پر بھی تنقید کی۔
واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی آراء منقسم دکھائی دیں۔ کچھ افراد نے پولیس کی کارروائی پر سوالات اٹھائے، جبکہ دیگر کا کہنا تھا کہ غیر مجاز احتجاج میں شرکت کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکتی ہے۔
تاہم اس معاملے پر ممبئی پولیس کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، جبکہ عائشہ خان کی رہائی یا ممکنہ قانونی کارروائی سے متعلق مزید تفصیلات بھی سامنے نہیں آئی ہیں۔