پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان میں واقع خنجراب پاس صرف پاک چین سرحد اور دلکش قدرتی مناظر ہی نہیں، بلکہ دنیا کے بلند ترین اے ٹی ایم کی وجہ سے بھی عالمی توجہ کا مرکز ہے۔
نیشنل بینک آف پاکستان نے یہ اے ٹی ایم 2016 میں خنجراب پاس پر نصب کیا تھا، جو سطح سمندر سے تقریباً 4 ہزار 693 میٹر (15 ہزار 397 فٹ) کی بلندی پر واقع ہے۔ اسی وجہ سے اسے دنیا کے بلند ترین فعال اے ٹی ایمز میں شمار کیا جاتا ہے۔
یہ اے ٹی ایم انتہائی دشوار گزار اور سخت موسمی حالات میں بھی بینکنگ سہولت فراہم کرنے کے لیے نصب کیا گیا۔ سردیوں میں یہاں درجہ حرارت منفی 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر سکتا ہے، جبکہ شدید برف باری اور تیز ہوائیں بھی معمول کا حصہ ہیں۔ اس کے باوجود مشین کو ایسے انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ وہ سخت موسمی حالات میں بھی کام جاری رکھ سکے۔
خنجراب پاس قراقرم ہائی وے پر پاکستان اور چین کے درمیان سرحدی گزرگاہ ہے، جہاں ہر سال ہزاروں ملکی و غیر ملکی سیاح آتے ہیں۔ یہ اے ٹی ایم سیاحوں، سرحدی اہلکاروں، مقامی عملے اور مسافروں کے لیے نقد رقم کے حصول کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
اس منفرد منصوبے نے نہ صرف پاکستان کے بینکنگ شعبے کی تکنیکی صلاحیت کو اجاگر کیا بلکہ ملک کے شمالی علاقوں میں جدید مالیاتی خدمات کی فراہمی کی بھی ایک مثال قائم کی۔
خنجراب پاس اپنی قدرتی خوبصورتی، جنگلی حیات اور دنیا کی بلند ترین پختہ بین الاقوامی سرحدی گزرگاہوں میں شمار ہونے کے باعث پہلے ہی سیاحوں کے لیے کشش رکھتا ہے، جبکہ دنیا کا بلند ترین اے ٹی ایم اس مقام کی ایک اور منفرد پہچان بن چکا ہے۔