عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں برطانوی برینٹ، امریکی ڈبلیو ٹی آئی اور اماراتی مربن خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق برطانوی برینٹ کروڈ کی قیمت بڑھ کر 99 ڈالر 70 سینٹ فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ امریکی خام تیل (WTI) 91 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا ہے۔ اسی طرح اماراتی خام تیل مربن کی قیمت بھی بڑھ کر 106 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آ گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر جاری جغرافیائی کشیدگی، خام تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات اور توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث قیمتوں پر دباؤ برقرار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں مسلسل اضافے سے تیل درآمد کرنے والے ممالک کے توانائی اخراجات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ تیزی کی بڑی وجہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، خصوصاً ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ تصادم کے خدشات ہیں۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر کشیدگی کسی بڑے فوجی تنازع میں تبدیل ہوئی تو خلیج فارس سے خام تیل کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے، جس سے عالمی سپلائی میں کمی کا خطرہ پیدا ہوگا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ دنیا کے اہم ترین تیل پیدا کرنے والے خطوں میں شمار ہوتا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کا اہم بحری راستہ ہے، جہاں کسی بھی سکیورٹی بحران کے خدشات فوری طور پر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مارکیٹ میں صرف موجودہ سپلائی اور طلب ہی نہیں بلکہ مستقبل کے جغرافیائی اور سکیورٹی خدشات بھی قیمتوں کے تعین میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایران پر ممکنہ حملے، جوابی کارروائی یا خطے میں اتحادی گروہوں کی سرگرمیوں میں اضافے سے عالمی توانائی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہ سکتی ہے۔
دوسری جانب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پاکستان میں بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین اب روزانہ کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، جس کے باعث عالمی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے اثرات مقامی قیمتوں پر بھی نسبتاً تیزی سے مرتب ہو سکتے ہیں