وفاقی حکومت نے عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر مسلسل چوتھے روز بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا، جس کے بعد پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے۔
پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق 24 جولائی کے لیے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا، جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
حکومت کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین کے نئے نظام کے تحت یہ مسلسل چوتھا اضافہ ہے۔ گزشتہ چار روز کے دوران پیٹرول کی قیمت میں مجموعی طور پر 22 روپے 23 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 34 روپے 31 پیسے فی لیٹر مہنگا ہو چکا ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے اثرات پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔
گزشتہ روز 23 جولائی کو بھی حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 83 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا تھا، جبکہ 21 جولائی کو پیٹرول 4 روپے 93 پیسے اور ڈیزل 7 روپے 15 پیسے فی لیٹر مہنگا کیا گیا تھا۔
اس سے قبل 20 جولائی کو پیٹرول کی قیمت میں 35 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی تھی، تاہم اسی روز ڈیزل 5 روپے 71 پیسے فی لیٹر مہنگا کیا گیا تھا۔۔
17 جولائی کو حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے 44 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 31 روپے 5 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا تھا۔ اس سے قبل 10 جولائی کو بھی پیٹرول 13 روپے 18 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 13 روپے 80 پیسے فی لیٹر مہنگا کیا گیا تھا۔
مسلسل اضافوں کے باعث ٹرانسپورٹ، اشیائے خور و نوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے