ویسلین کی دلچسپ کہانی،ایک فضلہ دنیا کی مقبول پروڈکٹ بن گیا

ویسلین کی دلچسپ کہانی،ایک فضلہ دنیا کی مقبول پروڈکٹ بن گیا

ویسلین آج دنیا بھر میں جلد کی حفاظت اور نمی برقرار رکھنے کے لیے استعمال ہونے والی مقبول ترین مصنوعات میں شمار ہوتی ہے، مگر بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس کی ابتدا تیل نکالنے کے عمل کے دوران بننے والے فضلے سے ہوئی تھی۔

سن 1859 میں کیمیا دان رابرٹ چیسبرونے امریکی ریاست پنسلوانیا میں تیل کے کنوؤں پر کام کرنے والے مزدوروں کو ایک چپچپا مادہ، جسے ’’راڈ ویکس ‘‘کہا جاتا تھا، اپنے زخموں اور جلنے کی جگہ پر لگاتے ہوئے دیکھا۔

یہ بھی پڑھیں:قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، پتے جیسا دکھائی دینے والا منفرد کیڑے

رابرٹ چیسبرو اس مادے کو اپنے ساتھ لیبارٹری لے گئے، جہاں انہوں نے کئی سال کی تحقیق کے بعد اسے صاف اور محفوظ بنایا۔ بعد ازاں 1872 میں انہوں نے اس ایجاد کا پیٹنٹ حاصل کیا اور اس کا نام ویسلینرکھا، جو جرمن زبان کے لفظ ’’واسر‘‘ (، یعنی پانی) اور یونانی لفظ’’ایلائیون‘‘ ( یعنی تیل) سے مل کر بنایا گیا۔

وقت گزرنے کے ساتھ ویسلین جلد کی خشکی، پھٹے ہوئے ہونٹوں اور سرد موسم میں جلد کو محفوظ رکھنے کے لیے دنیا بھر میں ایک قابلِ اعتماد اسکن کیئر پروڈکٹ بن گئی۔

یہ بھی پڑھیں:سمندری کچھوؤں کو آزادی دلانے والا اقدام کیوں تنقید کی زد میں آ گیا؟

دلچسپ بات یہ ہے کہ رابرٹ چیسبرو کو اپنی ایجاد پر اس قدر یقین تھا کہ وہ روزانہ ایک چمچ ویسلین بھی کھایا کرتے تھے۔ اگرچہ وہ 96 سال کی عمر تک زندہ رہے، تاہم جدید طبی ماہرین ویسلین کھانے کی ہرگز سفارش نہیں کرتے اور اسے صرف بیرونی استعمال کے لیے محفوظ قرار دیتے ہیں۔

ڈیڑھ صدی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود ویسلین آج بھی دنیا کی مقبول ترین اسکن کیئر مصنوعات میں شامل ہے اور ذاتی نگہداشت کے ساتھ ساتھ بعض صنعتی مقاصد کے لیے بھی استعمال کی جاتی ہے۔

editor

Related Articles