امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری پروگرام کے معاہدے کو اسرائیل کو تسلیم کرنے سے مشروط کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ریاض اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم کرتا ہے تو امریکا اس معاہدے کی حتمی منظوری دینے کے لیے تیار ہوگا۔
ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار ہے اور امریکا و ایران کے درمیان جاری تنازعے کی ایک بڑی وجہ تہران کا جوہری پروگرام ہے۔ امریکی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ خطے میں جوہری تعاون اور سلامتی کے معاملات کو وسیع سفارتی فریم ورک کے تحت آگے بڑھایا جانا چاہیے۔
امریکی صدر نے کہا کہ سعودی عرب کے لیے سول جوہری پروگرام ایک اہم اقتصادی اور توانائی منصوبہ ثابت ہو سکتا ہے، تاہم اس کی منظوری اس بات سے مشروط ہوگی کہ مملکت ابراہم معاہدوں میں شامل ہو کر اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ٹرمپ کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اگر سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کرتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ ان کے مطابق سعودی عرب جیسے بااثر عرب ملک کا اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنا پورے خطے میں تعاون، استحکام اور اقتصادی روابط کے نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔
تاہم سعودی عرب نے ایک بار پھر اپنے دیرینہ مؤقف کو دہرایا ہے کہ آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے واضح، قابلِ عمل اور ناقابلِ واپسی پیش رفت کے بغیر اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ ریاض کا کہنا ہے کہ فلسطینی عوام کے جائز حقوق اور دو ریاستی حل کے بغیر تعلقات کی بحالی ممکن نہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مجوزہ سول جوہری معاہدہ طے پانے کی صورت میں امریکی کمپنیوں کو اربوں ڈالر کے تجارتی مواقع میسر آئیں گے، جبکہ سعودی عرب اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے، معیشت کو متنوع بنانے اور جدید جوہری ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاملے کا مستقبل نہ صرف سعودی عرب اور امریکا کے تعلقات بلکہ مشرق وسطیٰ کی سفارتی اور سیاسی صورتحال پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے، کیونکہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کا معاملہ اب بھی خطے کی سیاست کا ایک انتہائی حساس اور اہم موضوع ہے۔