روبوٹکس اور اے آئی مستقبل کی معیشت کی بنیاد ہیں، شزا فاطمہ

روبوٹکس اور اے آئی مستقبل کی معیشت کی بنیاد ہیں، شزا فاطمہ

وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے راس ایکسپو 2026 کے کامیاب انعقاد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان روبوٹکس، آٹومیشن اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی جامعات، اساتذہ، طلبہ، صنعت اور مختلف ادارے مل کر ایک مضبوط ٹیکنالوجی ماحولیاتی نظام تشکیل دے رہے ہیں، جو پاکستان کو روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کی عالمی صنعت میں نمایاں مقام دلانے میں مدد دے گا۔

یہ بھی پڑھیں:ٹیلی کام کمپنیوں کے جرمانے کا معاملہ، وفاقی وزیرشیزا فاطمہ نے وضاحت کر دی

شزا فاطمہ کے مطابق دو روزہ راس ایکسپو 2026 میں جدید ٹیکنالوجی کی متعدد ایجادات پیش کی گئیں۔ نمائش میں صنعتی آٹومیشن، مکینیکل روبوٹس، خودکار نظام، دفاعی ٹیکنالوجی، لاجسٹکس، ریسکیو اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے لیے تیار روبوٹس، جدید نیویگیشن سسٹمز اور سمیولیٹرز نے شرکا کی خصوصی توجہ حاصل کی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت آئندہ بھی اس نوعیت کی نمائشوں کا انعقاد جاری رکھے گی تاکہ نوجوانوں، تعلیمی اداروں اور صنعت کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کیا جا سکے اور ملک میں ٹیکنالوجی پر مبنی صنعت کو مزید فروغ ملے۔

یہ بھی پڑھیں :دنیا کا پہلا روبوٹ فون متعارف کرا دیا، کیمرہ خود صارف کا پیچھا کرے گا

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے ایکسپو کے دوران روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے 20 ملین ڈالر کی معاونت کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ صنعت کے لیے جدید سمیولیٹرز تیار کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے تاکہ کاروباری ادارے اپنی پیداواری سرگرمیوں کا عملی جائزہ لے سکیں اور آٹومیشن کے معاشی فوائد سے بہتر انداز میں فائدہ اٹھا سکیں۔

شزا فاطمہ نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ جدید ٹیکنالوجی انسانوں کی ملازمتیں ختم کر دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی ملازمتیں ختم نہیں کرتی بلکہ ان کی نوعیت تبدیل کرتی ہے، جبکہ مستقبل میں ایسے ماہر افراد کی ضرورت ہوگی جو روبوٹس اور جدید مشینوں کو تیار کرنے، چلانے اور ان کی دیکھ بھال کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:گوگل کو یورپ میں بڑا دھچکا، 89 کروڑ یورو جرمانہ عائد

انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ ریاضی، الیکٹریکل انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنس، مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس جیسے شعبوں کا انتخاب کریں، کیونکہ مستقبل کی معیشت انہی مہارتوں پر استوار ہوگی۔ ان کے مطابق جدید ٹیکنالوجی سے لیس افرادی قوت نہ صرف نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گی بلکہ پاکستان کی معیشت اور صنعتی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔

editor

Related Articles