عالمی منڈی میں سونے کی قیمت مسلسل دوسرے روز بھی دباؤ کا شکار رہی جہاں امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے آئندہ مہینوں میں شرح سود میں اضافے کے خدشات کے باعث سرمایہ کار محتاط دکھائی دیے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسپاٹ گولڈ کی قیمت 16 ڈالر کمی کے بعد 4,030.09 ڈالر فی اونس پر آ گئی جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز بھی تقریباً 16 ڈالر کم ہو کر 4,033.20 ڈالر فی اونس کی سطح پر ٹریڈ کرتے رہے۔
اگرچہ ہفتہ وار بنیاد پر سونے کی قیمت معمولی اضافے کی جانب گامزن ہے تاہم بلند شرح سود کے امکانات نے قیمتی دھات پر دباؤ برقرار رکھا ہوا ہے۔ جب شرح سود بڑھنے کی توقع ہوتی ہے تو سرمایہ کار ایسی سرمایہ کاری کو ترجیح دیتے ہیں جو منافع یا سود فراہم کرے جبکہ سونے پر کوئی سود نہیں ملتا اسی لیے اس کی طلب میں عارضی کمی دیکھنے میں آتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق سرمایہ کاروں کی تمام تر توجہ اب آئندہ ہفتے ہونے والے امریکی فیڈرل ریزرو کے مانیٹری پالیسی اجلاس پر مرکوز ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس اجلاس میں شرح سود موجودہ سطح پر برقرار رکھی جائے گی تاہم ستمبر میں شرح سود میں اضافے کے امکانات اب بھی مضبوط تصور کیے جا رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فیڈرل ریزرو نے سخت مانیٹری پالیسی کا عندیہ دیا تو عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں پر مزید دباؤ آ سکتا ہے جبکہ کسی نرم پالیسی یا شرح سود میں کمی کے اشارے کی صورت میں سونے کی قیمتیں دوبارہ تیزی پکڑ سکتی ہیں۔