سمندری کچھوؤں کو آزادی دلانے والا اقدام کیوں تنقید کی زد میں آ گیا؟

سمندری کچھوؤں کو آزادی دلانے والا اقدام کیوں تنقید کی زد میں آ گیا؟

نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے ایرون کلنگ اور ان کے ساتھی مارک  نے پاپوا نیو گنی کی ایک مقامی فوڈ مارکیٹ سے زندہ سمندری کچھوے خرید کر انہیں دوبارہ سمندر میں آزاد کر دیا، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد دنیا بھر میں ان کے اقدام کو سراہا جا رہا ہے۔

 میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں افراد نے ابتدائی طور پر چند کچھوؤں کو خرید کر سمندر میں چھوڑا، جس کے بعد مزید کچھوؤں کو بھی قدرتی ماحول میں واپس منتقل کیا۔

یہ بھی پڑھیں:قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، پتے جیسا دکھائی دینے والا منفرد کیڑے

تاہم جنگلی حیات کے ماہرین نے اس اقدام پر محتاط رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ جانوروں کو بچانے کی نیت قابلِ ستائش ہے، لیکن غیر قانونی مارکیٹ سے جنگلی حیات خریدنے سے اس کاروبار کو فروغ مل سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے اقدامات شکاریوں کو مزید جانور پکڑنے کی ترغیب دے سکتے ہیں، کیونکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ خریدار موجود ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور متعلقہ تحفظی تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کرنا زیادہ مؤثر اور پائیدار حل ہے، تاکہ غیر قانونی شکار اور جنگلی حیات کی تجارت کی مستقل حوصلہ شکنی کی جا سکے۔

editor

Related Articles