پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے سابق چیف ایگزیکٹو وسیم خان نے بین الاقوامی باسکٹ بال فیڈریشن (فیبا) میں بطورِ ایگزیکٹو ڈائریکٹر برائے ایشیا جوائن کر لیا ہے، جہاں وہ براعظم میں باسکٹ بال کے فروغ اور 44 قومی فیڈریشنز کے امور کی نگرانی کریں گے۔
برطانوی پاکستانی معروف اسپورٹس ایڈمنسٹریٹر وسیم خان نے باضابطہ طور پر جنوری 2027 میں فیبا ایشیا کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کا منصب سنبھالنے سے قبل اپنی ذمہ داریاں شروع کر دی ہیں۔
وہ موجودہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہاگوپ کھاجیریان کے ساتھ ایک طویل ٹرانزیشن پیریڈ سے گزر رہے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل ہموار طریقے سے مکمل ہو سکے۔
یہ تقرری وسیم خان کے کریئر کا ایک نیا اور شاندار موڑ ہے، کیونکہ وہ اس سے قبل کرکٹ کی دنیا کے مایہ ناز عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔
وسیم خان نے اپنے کیریئر کا آغاز انگلینڈ میں پروفیشنل کرکٹ کھیلنے کے بعد بطور ایڈمنسٹریٹر کیا۔ انہوں نے یوتھ کرکٹ چیریٹی ‘چانس ٹو شائن’ اور لیسٹر شائر کاؤنٹی کرکٹ کلب کے چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے شاندار خدمات انجام دیں۔
سال 2019 میں وہ 3 سالہ معاہدے کے تحت بطور منیجنگ ڈائریکٹر پی سی بی سے وابستہ ہوئے اور بعد ازاں بورڈ کے چیف ایگزیکٹو کے عہدے پر فائز رہے۔
انہوں نے 2021 میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا جو بورڈ آف گورنرز نے قبول کر لیا تھا۔ پی سی بی چھوڑنے کے فوراً بعد اپریل 2022 میں انہیں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) میں جنرل منیجر کرکٹ مقرر کیا گیا تھا۔
اس تبدیلی کے ساتھ ہی فیبا نے ایشیا میں اپنی انتظامی پوزیشن کو وسعت دینے کا اعلان کیا ہے۔ فیبا سینٹرل بورڈ اور فیبا ایشیا زون بورڈ کی منظوری کے بعد فیبا ریجنل آفس ایشیا کو جنوری 2027 میں بیروت سے کوالا لمپور منتقل کیا جا رہا ہے، جو اس کا اصل پرانا ہیڈ کوارٹر تھا۔
ملائیشیا کا دارالحکومت کوالا لمپور ایشیائی فٹ بال کنفیڈریشن اور ورلڈ بیڈمنٹن فیڈریشن جیسے بڑے اداروں کا مرکز ہے، جو اس اسٹریٹجک منتقلی کو مزید اہمیت دیتا ہے۔
وسیم خان کی فیبا ایشیا میں یہ تقرری محض ایک نوکری کی تبدیلی نہیں ہے، بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بین الاقوامی کھیلوں کی انتظامی مارکیٹ میں برطانوی پاکستانی اور ایشیائی نژاد پروفیشنلز کی صلاحیتوں کا لوہا مانا جا رہا ہے۔
کرکٹ کے بند کمروں اور روایتی نظام سے نکل کر باسکٹ بال جیسی عالمی اور تیز رفتار کھیل کی تنظیم میں اعلیٰ ترین عہدہ حاصل کرنا وسیم خان کی انتظامی مہارت، نیٹ ورکنگ اور چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
دوسری جانب فیبا کا اپنے ایشیائی دفتر کو بیروت سے کوالا لمپور منتقل کرنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ تنظیم خطے میں مزید شفافیت، اسٹریٹجک استحکام اور پیشہ ورانہ بہتری چاہتی ہے۔
ایسے وقت میں جب ایشیا میں باسکٹ بال کی مقبولیت تیزی سے بڑھ رہی ہے، وسیم خان کا وسیع تجربہ ایشیائی باسکٹ بال کے ڈھانچے کو نچلی سطح پر مضبوط کرنے میں گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔