پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر اضافہ، آج فی تولہ نئے نرخ سامنے آگئے

پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر اضافہ، آج فی تولہ نئے نرخ سامنے آگئے

پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں تیزی کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث خریداروں پر مزید دباؤ بڑھ گیا ہے، 24 قیراط سونے کی قیمت فی تولہ 430,000 روپے کی سطح تک جا پہنچی، جبکہ چاندی کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔

آج سونے اور چاندی کی قیمتیں کیا ہیں؟

ملک میں 22 قیراط سونا اس وقت 394,717 روپے فی تولہ کے حساب سے فروخت ہو رہا ہے، جبکہ 21 قیراط سونے کی قیمت بڑھ کر 376,775 روپے فی تولہ تک جا پہنچی ہے۔ اسی طرح چاندی کی قیمت میں بھی اضافہ دیکھا گیا اور 10 گرام چاندی کا نرخ 6,450 روپے تک پہنچ گیا، جو کہ قیمتی دھاتوں کی مجموعی مارکیٹ میں مضبوطی کی عکاسی کرتا ہے۔

دھات

خالص پن

یونٹ

تازہ ترین قیمت

سونا

24 قیراط

فی تولہ

427,736 روپے

سونا

24 قیراط

10 گرام

366,714 روپے

سونا

22 قیراط

فی تولہ

394,717 روپے

سونا

21 قیراط

فی تولہ

376,775 روپے

چاندی

فی تولہ

6,297 روپے

چاندی

10 گرام

6,450 روپے

جولائی میں سونے کی قیمت میں شدید اتار چڑھاؤ

یہ تازہ اضافہ پاکستان کی صرافہ مارکیٹ کی تاریخ کے ایک انتہائی غیر مستحکم مہینے کے بعد سامنے آیا ہے۔ جولائی کے آغاز میں سونے کی قیمت کمزور رہی اور یہ 417,000 روپے سے 424,000 روپے فی تولہ کی حدود میں پھسل گئی تھی، تاہم عالمی مارکیٹ کے جذبات میں تبدیلی کے باعث اس میں شدید ریکوری دیکھنے میں آئی۔

یہ ریکوری بھی اتنی ہی ڈرامائی رہی، جس میں ایک ہی روز کے دوران 4,700 روپے اور 4,600 روپے فی تولہ تک اضافہ دیکھا گیا، جس نے قیمت کو مختصر وقت کے لیے 429,000 روپے اور 433,836 روپے کے قریب پہنچا دیا۔

یہ بھی پڑھیں:عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں کو ریورس گیئر لگ گیا ، اس ہفتے کی بڑی کمی

ماہ کے آخری دنوں میں بھی مارکیٹ میں شدید اتار چڑھاؤ برقرار رہا، جہاں روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں میں 1,800 روپے سے 4,600 روپے تک کا فرق دیکھا گیا، جس نے سرمایہ کاروں اور جیولرز دونوں کو تشویش میں مبتلا رکھا۔

جولائی 2026 کے دوران سونے کی قیمت اپنی بلند ترین سطح پر تقریباً 442,900 روپے فی تولہ تک پہنچی، جس کے بعد یہ گر کر تقریباً 424,200 روپے تک آ گئی، یعنی مختصر عرصے میں 10,000 روپے سے زائد کا اتار چڑھاؤ ریکارڈ کیا گیا۔

اس شدید بے یقینی کے باوجود اب قیمتیں 430,000 روپے کی سطح کے قریب مستحکم ہو چکی ہیں، تاہم مارکیٹ سے وابستہ افراد مزید اتار چڑھاؤ کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔

عالمی مارکیٹ اور روپے کی قدر کا کردار

صرافہ مارکیٹ کے ماہرین کے مطابق ان مسلسل اتار چڑھاؤ کی بنیادی وجوہات میں عالمی سطح پر سونے کی غیر مستحکم قیمتیں، جغرافیائی و سیاسی کشیدگی، امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں کمی اور مقامی مارکیٹ کی بدلتی ہوئی طلب و رسد شامل ہیں۔

اطلاعات کے مطابق عالمی سطح پر سونے کی قیمت 4,053 ڈالر فی اونس کے قریب رہی، جبکہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر تقریباً 277.69 روپے کے آس پاس رہی۔

واضح رہے کہ پاکستان میں سونے کی قیمت کا تعین 2 بنیادی عوامل، یعنی عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت اور ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر سے کیا جاتا ہے اور جب بھی ان دونوں میں سے کسی ایک میں تبدیلی آتی ہے تو اس کا براہِ راست اثر مقامی نرخوں پر مرتب ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں:سونے اور چاندی کی قیمتوں میں ایک اور بڑی کمی، مارکیٹ کا رخ ہی بدل گیا

گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ سال 2021 میں 24 قیراط سونے کی قیمت تقریباً 100,000 روپے فی تولہ کے قریب تھی، جو اب بڑھ کر 430,000 روپے سے تجاوز کر چکی ہے، یعنی پانچ برسوں میں قیمت میں 4 گنا سے زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔

ماہرین اس اضافے کی بڑی وجہ روپے کی مسلسل قدر میں کمی، بین الاقوامی سطح پر سونے کی بڑھتی ہوئی طلب اور مقامی سطح پر شادی بیاہ کے سیزن میں زیورات کی خریداری میں اضافے کو قرار دیتے ہیں۔

سونے کی قیمتوں میں حالیہ اتار چڑھاؤ اس بات کی واضح نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستانی بلین مارکیٹ اب مکمل طور پر عالمی رجحانات اور روپے کی قدر سے جڑ چکی ہے۔

جولائی کے دوران محض چند ہفتوں میں 10,000 روپے سے زیادہ کا فرق سامنے آنا اس بات کی علامت ہے کہ سرمایہ کار اور عام خریدار دونوں کے لیے قلیل مدتی خریداری کے فیصلے انتہائی مشکل ہو چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:عالمی منڈی میں بڑا جھٹکا! سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی

ماہرین کے مطابق زیورات کی خریداری کے لیے قیمت کے اتار چڑھاؤ کا انتظار کرنے کے بجائے ضرورت کے وقت خریداری زیادہ سودمند ثابت ہوتی ہے، کیونکہ قیمتوں میں معمولی کمی کا فائدہ اکثر بنوائی کے اخراجات میں پورا ہو جاتا ہے۔

دوسری جانب طویل مدتی سرمایہ کاری کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو سونا اب بھی روپے کی قدر میں کمی اور مہنگائی کے خلاف ایک مؤثر تحفظ کے طور پر اپنی اہمیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔

آنے والے دنوں میں عالمی سیاسی و اقتصادی صورتحال اور روپے کی قدر ہی طے کرے گی کہ سونے کی قیمت موجودہ سطح پر مستحکم رہتی ہے یا ایک بار پھر نئے اتار چڑھاؤ کا شکار ہوتی ہے۔

Related Articles