آزاد کشمیر انتخابات، میرپور ڈویژن میں دنگل سج گیا، 296 امیدوار مد مقابل، پولنگ جاری

آزاد کشمیر انتخابات، میرپور ڈویژن میں دنگل سج گیا، 296 امیدوار مد مقابل، پولنگ جاری

آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات کا پہلا مرحلہ شروع ہو گیا ہے، جس کے تحت میرپور ڈویژن کے تین اضلاع میرپور، کوٹلی اور بھمبر کے 13 انتخابی حلقوں میں پولنگ کا عمل جاری ہے، جو شام 5 بجے تک بغیر کسی وقفے کے چلے گا۔

کتنے پولنگ اسٹیشن، کتنے امیدوار؟

الیکشن کمیشن کے مطابق میرپور ڈویژن بھر میں مجموعی طور پر 2 ہزار 454 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔ ضلع میرپور کے 4 حلقوں میں 597، ضلع کوٹلی کے 6 حلقوں میں 1,107 جبکہ ضلع بھمبر کے 3 حلقوں میں 608 پولنگ اسٹیشن بنائے گئے ہیں تاکہ ووٹرز کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر انتخابات: سرکاری ملازمین کے لیے ووٹ کاسٹنگ کا عمل کامیابی سے مکمل، 80 فیصد ٹرن آؤٹ ریکارڈ

انتخابی میدان میں پیپلزپارٹی، مسلم لیگ (ن)، استحکام پاکستان پارٹی، جماعت اسلامی، مسلم کانفرنس اور دیگر سیاسی جماعتوں کے علاوہ آزاد امیدواروں سمیت کل 296 امیدوار قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔ ان حلقوں میں 14 لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنے کے اہل ہیں، جن میں مردوں کے ساتھ خواتین ووٹرز کی تعداد بھی خاصی نمایاں ہے۔

سیکیورٹی کے سخت انتظامات

پولنگ کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے سیکیورٹی کے کڑے انتظامات کیے گئے ہیں۔ حکام کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ ووٹنگ کے عمل میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے حساس قرار دیے گئے پولنگ اسٹیشنز پر خصوصی طور پر تعینات کیے گئے ہیں۔

انتخابات 3 حصوں میں کیوں تقسیم؟

آزاد کشمیر الیکشن کمیشن نے حال ہی میں انتخابی شیڈول کو 3 مراحل میں تقسیم کیا تھا۔ پہلے مرحلے میں آج میرپور ڈویژن میں پولنگ ہو رہی ہے۔

دوسرے مرحلے میں مظفرآباد ڈویژن کے حلقوں کے ساتھ ساتھ مہاجرین کشمیر کی نشستوں پر بھی ووٹنگ ہوگی، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں پونچھ ڈویژن کے 4 اضلاع میں انتخابات مکمل ہوں گے۔ اس مرحلہ وار انتخابی عمل کا مقصد سیکیورٹی کو بہتر انداز میں یقینی بنانا اور شفاف انتخابات کا انعقاد بتایا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں:آزادکشمیر انتخابات ، میرپورمیں کونسلر راجہ جمیل ، راجہ راشد الطاف سینکڑوں حامیوں سمیت استحکام پاکستان پارٹی میں شامل

پاکستان تحریک انصاف نے ان انتخابات کا سرکاری طور پر بائیکاٹ کر رکھا ہے اور کسی امیدوار کو ٹکٹ جاری نہیں کیا، البتہ اس کے بعض سابق رہنما آزاد حیثیت سے میدان میں ہیں۔

میرپور ڈویژن کا نتیجہ کیوں فیصلہ کن؟

میرپور ڈویژن کی 13 نشستیں آزاد کشمیر اسمبلی میں خاصی اہمیت رکھتی ہیں اور اس مرحلے کا نتیجہ آنے والے 2 مراحل کی سیاسی فضا پر براہ راست اثر ڈالے گا۔ جس جماعت کو یہاں کامیابی ملے گی، اسے نہ صرف نفسیاتی برتری حاصل ہوگی بلکہ باقی 2 مراحل میں بھی اس کی انتخابی مہم کو تقویت ملے گی۔

پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) دونوں وفاقی سطح پر مضبوط سیاسی حیثیت کی حامل ہیں، اس لیے یہاں دونوں جماعتوں کے درمیان براہ راست ٹکر متوقع ہے، جبکہ استحکام پاکستان پارٹی اپنے قدم جمانے کی کوشش میں ہے۔

تحریک انصاف کے بائیکاٹ کے باعث آزاد امیدواروں کا کردار بھی نتائج میں غیرمعمولی اہمیت اختیار کر سکتا ہے۔ 296 امیدواروں کی بھاری تعداد اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاسی درجہ حرارت اس مرتبہ کافی بلند ہے۔

Related Articles