پاکستان میں 12 اگست کو کیا ہونے والا ہے؟ آسمان پر نایاب منظر کی پیش گوئی

پاکستان میں 12 اگست کو کیا ہونے والا ہے؟ آسمان پر نایاب منظر کی پیش گوئی

دنیا 12 اگست 2026 کو ایک نایاب فلکیاتی مظہر مکمل سورج گرہن (Total Solar Eclipse) کا مشاہدہ کرے گی تاہم یہ حیرت انگیز منظر پاکستان میں نظر نہیں آئے گا کیونکہ گرہن کے تمام مراحل کے دوران ملک میں رات ہوگی۔

امریکی خلائی تحقیق کے ادارے ناسا کے مطابق 12 اگست کو ہونے والا مکمل سورج گرہن دنیا کے چند مخصوص علاقوں میں ہی مکمل طور پر دکھائی دے گا۔ ماہرین فلکیات کے مطابق مکمل سورج گرہن ایک غیر معمولی قدرتی مظہر ہے، جو اس وقت وقوع پذیر ہوتا ہے جب چاند سورج اور زمین کے درمیان آ کر سورج کو مکمل طور پر ڈھانپ لیتا ہے۔ یہ مظہر ہر سال کسی نہ کسی مقام پر ضرور ہوتا ہے، لیکن کسی مخصوص خطے میں مکمل سورج گرہن کا دوبارہ نظر آنا کئی برس بعد ممکن ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان میں یہ سورج گرہن نظر نہیں آئے گا کیونکہ گرہن کے آغاز تک پاکستان میں سورج غروب ہوئے کئی گھنٹے گزر چکے ہوں گے۔

پاکستانی وقت کے مطابق گرہن کا شیڈول

  • جزوی گرہن کا آغاز: رات 8:35 بجے

  • مکمل گرہن کا آغاز: رات 9:59 بجے

  • عظیم ترین مرحلہ (Greatest Eclipse): رات 10:47 بجے

  • مکمل گرہن کا اختتام: رات 11:35 بجے

  • گرہن کا مکمل اختتام: 13 اگست کی رات 12:59 بجے (تقریباً ایک بجے)

اگرچہ یہ تمام مراحل پاکستانی وقت کے مطابق ہوں گے تاہم  اس وقت پاکستان میں رات ہوگی اس لیے یہاں سے سورج گرہن کا مشاہدہ ممکن نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:پیٹرول کی قیمتوں کا نیا فارمولا کیا ہوگا ؟ آج اہم مذاکرات

کن ممالک میں نظر آئے گا؟

اس مرتبہ مکمل سورج گرہن کی پٹی گرین لینڈ، آئس لینڈ، اسپین کے شمالی علاقوں، پرتگال کے ایک حصے اور شمالی روس سے گزرے گی۔

ان علاقوں میں لاکھوں افراد سورج کے مکمل طور پر ڈھک جانے، دن میں چند منٹ کے لیے اندھیرا چھا جانے درجہ حرارت میں کمی اور سورج کے گرد نظر آنے والے روشن شمسی کورونا (Solar Corona) کا دلکش منظر دیکھ سکیں گے۔ دنیا بھر سے ہزاروں ماہرین فلکیات اور سیاح بھی اس نایاب فلکیاتی مظہر کا مشاہدہ کرنے کے لیے ان ممالک کا رخ کریں گے۔

ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ سورج گرہن قدرت کا ایک معمول کا فلکیاتی عمل ہے اور اس کا کسی غیر معمولی واقعے یا قدرتی آفت سے کوئی تعلق نہیں۔ جہاں یہ گرہن نظر آئے، وہاں بھی اسے صرف مخصوص سولر فلٹر یا گرہن دیکھنے والے محفوظ چشموں کے ذریعے ہی دیکھنا چاہیے، کیونکہ بغیر حفاظتی انتظامات کے براہِ راست سورج کو دیکھنا آنکھوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے

Qaisar Mirza
editor

Related Articles