وزارتِ پیٹرولیم اور آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کے درمیان آج اہم مذاکرات ہوں گے جن میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے نئے روزانہ (ڈیلی) تعین کے نظام، ٹرانسپورٹرز اور ڈیلرز کے تحفظات سمیت دیگر اہم امور پر غور کیا جائے گا۔
پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک کی زیرِ صدارت اجلاس آج سہ پہر 3 بجے ہوگا جس میں آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کے نمائندے شرکت کریں گے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ اسٹیک ہولڈرز کے تحفظات دور کر کے پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل کا نظام بلا تعطل جاری رکھا جائے۔
پس منظر
حکومت نے حال ہی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار تبدیل کرتے ہوئے ہفتہ وار نظام کی جگہ روزانہ قیمتوں کے تعین کا فیصلہ کیا ہے۔ نئے طریقہ کار کے تحت آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اب پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ایکس ڈپو قیمتیں روزانہ جاری کرے گی جبکہ قیمتوں کا تعین گزشتہ سات دن کی عالمی اوسط قیمتوں (Seven-Day Rolling Average) کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ ہفتہ اور اتوار کو پہلے سے جاری قیمتیں برقرار رہیں گی۔ حکومت کے مطابق اس اقدام کا مقصد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے آنے والی تبدیلیوں کو بروقت مقامی مارکیٹ میں منتقل کرنا شفافیت بڑھانا ذخیرہ اندوزی کی حوصلہ شکنی کرنا اور مارکیٹ کو زیادہ مسابقتی بنانا ہے۔
آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے ٹرانسپورٹرز اور پیٹرولیم ڈیلرز کی جانب سے حکومت کے سامنے صرف روزانہ قیمتوں کے نظام پر ہی نہیں بلکہ کئی دیرینہ مطالبات بھی رکھے جا رہے ہیں۔ اہم مطالبات یہ ہیں:
روزانہ قیمتوں کے نظام پر نظرثانی یا مرحلہ وار نفاذ
ٹینکر مالکان کا کہنا ہے کہ روزانہ قیمتوں میں تبدیلی سے اسٹاک مینجمنٹ، بلنگ اور سپلائی متاثر ہوگی، اس لیے نظام کو مرحلہ وار نافذ کیا جائے۔
فریٹ (کرایہ) میں اضافہ
ڈیزل، ٹائر، اسپیئر پارٹس اور مرمت کے اخراجات بڑھنے کے باعث ٹینکر مالکان کرایوں میں اضافے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ٹرانسپورٹ مارجن کا ازسرِ نو تعین
موجودہ مارجن کو ناکافی قرار دیتے ہوئے اسے موجودہ مہنگائی کے مطابق بڑھانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
قیمتوں میں اچانک تبدیلی سے ہونے والے نقصان کا ازالہ
اگر روزانہ قیمت کم ہو جائے تو پہلے سے موجود اسٹاک پر ہونے والے مالی نقصان کے لیے حکومتی طریقہ کار وضع کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اوور لوڈنگ اور سیفٹی سے متعلق یکساں پالیسی
مختلف صوبوں میں مختلف قوانین کے بجائے ایک قومی پالیسی نافذ کرنے کا مطالبہ۔
ادائیگیوں کا بروقت نظام
آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب سے ٹرانسپورٹرز کو بروقت ادائیگیاں یقینی بنانے کا مطالبہ۔
ٹریک اینڈ ٹریس اور ڈیجیٹل نظام کے نفاذ کے لیے مناسب وقت
نئے ڈیجیٹل تقاضوں پر عمل درآمد سے پہلے تربیت اور عبوری مدت دینے کی درخواست۔
جرمانوں اور ریگولیٹری کارروائیوں پر نظرثانی
معمولی خلاف ورزیوں پر بھاری جرمانوں کے بجائے مرحلہ وار کارروائی کی تجویز۔
اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت
آئل ٹینکرز، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور پیٹرول پمپ ڈیلرز کو اعتماد میں لیے بغیر پالیسی نافذ نہ کرنے کا مطالبہ۔
آج کے مذاکرات میں متوقع اہم ایجنڈا
روزانہ پیٹرولیم قیمتوں کے نئے نظام پر اتفاقِ رائے۔
فریٹ اور ٹرانسپورٹ مارجن میں اضافے کا جائزہ۔
سپلائی چین میں رکاوٹیں دور کرنے کے اقدامات۔
اسٹاک ایڈجسٹمنٹ اور نقصان کے ازالے کا طریقہ کار۔
ہڑتال کے اعلان کو واپس لینے کے لیے قابلِ قبول حل کی تلاش۔
یہی نکات آج وزارتِ پیٹرولیم اور آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں زیرِ بحث آنے کی توقع ہے۔
حکومت کا مؤقف
وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک اس سے قبل متعدد اجلاسوں میں واضح کر چکے ہیں کہ روزانہ قیمتوں کا نیا نظام شفافیت صارفین کے مفاد اور منصفانہ مسابقت کو فروغ دینے کے لیے متعارف کرایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق سابقہ نظام بھی سات روزہ اوسط قیمتوں پر مبنی تھا تاہم اب عالمی منڈی میں تیز رفتار تبدیلیوں کے باعث روزانہ قیمتوں کا تعین زیادہ مؤثر ثابت ہوگا۔ حکومت نے صنعتی نمائندوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ تمام جائز تحفظات کو مشاورت سے حل کیا جائے گا اور اس مقصد کے لیے ایک خصوصی کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے۔
آج ہونے والے مذاکرات کو اس حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ ان کے نتیجے میں روزانہ پیٹرولیم قیمتوں کے نئے نظام پر اتفاقِ رائے پیدا ہونے اور آئندہ کی حکمتِ عملی طے ہونے کا امکان ہے۔ حکومتی حلقے پرامید ہیں کہ مذاکرات کے ذریعے صنعت کے خدشات دور کر لیے جائیں گے تاکہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی اور نئے نظام کا مؤثر نفاذ یقینی بنایا جا سکے