سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکریٹریٹ کے اجلاس میں چیئرمین نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) اور ممبران کی تنخواہوں کا معاملہ زیر بحث آیا جہاں ان کی تنخواہوں اور مراعات سے متعلق اہم انکشافات سامنے آئے۔
رانا محمود الحسن کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں نیپرا حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ چیئرمین نیپرا کی تنخواہ الاونسز سمیت ماہانہ 32 لاکھ روپے ہے جبکہ سابق قانون کے تحت یہ تنخواہ اور مراعات تقریباً 11 لاکھ روپے تھیں۔
اجلاس میں سیکریٹری کابینہ ڈویژن نے چیئرمین اور ممبران کی تنخواہوں میں ازخود اضافے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کا خصوصی آڈٹ کرانے کے لیے آڈیٹر جنرل کو خط لکھ دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنخواہوں میں اضافے کی منظوری وفاقی کابینہ سے لی جانی چاہیے تھی۔
اس موقع پر سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا کہ نیپرا لوڈشیڈنگ کے خاتمے، گردشی قرضوں میں کمی اور عوام کو سستی بجلی کی فراہمی میں اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنے میں ناکام رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ڈی جی نیپرا کی بنیادی تنخواہ اور الاونسز ملا کر ماہانہ تقریباً 20 لاکھ روپے بنتے ہیں۔
اجلاس کے دوران نیپرا حکام نے آئی پی پیز کو کی جانے والی ادائیگیوں سے متعلق بھی بریفنگ دی۔ حکام کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران 1149 ارب روپے انرجی چارجز اور 1800 ارب روپے کیپیسٹی چارجز کی مد میں ادا کیے گئے، جبکہ رواں سال اپریل تک 1023 ارب روپے انرجی چارجز اور 1430 ارب روپے کیپیسٹی چارجز کی ادائیگی کی جا چکی ہے۔
نیپرا حکام نے مزید بتایا کہ گزشتہ ساڑھے پانچ سال کے دوران آئی پی پیز کو کیپیسٹی چارجز کی مد میں مجموعی طور پر 7275 ارب روپے ادا کیے جا چکے ہیں۔
اجلاس میں سینیٹر عبدالقادر نے نیپرا کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ادارے کی بدانتظامی کے باعث ہر سال ہزاروں ارب روپے کیپیسٹی چارجز کی مد میں ادا کیے جا رہے ہیں۔ اس پر نیپرا حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ ایسا کوئی پاور پلانٹ نہیں جو بجلی پیدا کیے بغیر ادائیگیاں وصول کر رہا ہو۔