طلبا کے لیے خوشخبری، اسکولوں میں گرمائی تعطیلات میں اضافے کی سفارش

طلبا کے لیے خوشخبری، اسکولوں میں گرمائی تعطیلات میں اضافے کی سفارش

مون سون بارشوں اور سیلابی صورتحال کے پیشِ نظر پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں سکولوں کی بندش میں توسیع کی سفارش کر دی ہے، جس کے تحت متاثرہ اضلاع میں 20 اگست کو بھی سکول نہ کھولنے کی تجویز دی گئی ہے۔

سکولوں کی بندش میں توسیع کی سفارش

پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے مون سون بارشوں اور سیلابی صورتحال کے پیشِ نظر سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں تعلیمی اداروں کی بندش میں توسیع کی سفارش کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق اتھارٹی نے محکمہ سکولز ایجوکیشن کو باضابطہ سفارشات ارسال کرتے ہوئے تجویز دی ہے کہ متاثرہ علاقوں میں 20 اگست کو بھی سکول نہ کھولے جائیں، اور تعلیمی سرگرمیاں سیلابی پانی کے مکمل اترنے اور حالات معمول پر آنے تک معطل رکھی جائیں۔

متاثرہ عمارتوں کی بحالی کے اخراجات کا تخمینہ

سفارشات میں متعلقہ اضلاع میں سیلاب سے متاثرہ سکولوں اور دیگر سرکاری عمارتوں کی بحالی کے اخراجات کا تفصیلی تخمینہ لگانے کی بھی ہدایت شامل کی گئی ہے، تاکہ بحالی کے کاموں کے لیے ضروری فنڈز بروقت مختص کیے جا سکیں۔

سی اینڈ ڈبلیو کو سروے کی ذمہ داری

پی ڈی ایم اے کی سفارشات میں محکمہ مواصلات و تعمیرات (سی اینڈ ڈبلیو) کو یہ ذمہ داری سونپنے کی تجویز بھی دی گئی ہے کہ وہ خستہ حال سکولوں اور دیگر سرکاری عمارتوں کا تفصیلی سروے مکمل کر کے حکام کو رپورٹ پیش کرے، تاکہ غیر محفوظ عمارتوں کی نشاندہی کر کے طلبہ کو کسی ممکنہ حادثے سے محفوظ رکھا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:سکولوں میں گرمیوں کی چھٹیوں میں توسیع ہوگی یا نہیں ؟

پنجاب میں سکولوں کی گرمیوں کی چھٹیاں 22 مئی سے شروع ہوئی تھیں، اور محکمہ سکولز ایجوکیشن کے شیڈول کے مطابق تعلیمی ادارے 24 اگست کو دوبارہ کھلنے تھے۔

تاہم رواں مون سون سیزن میں صوبے کے مختلف دریاؤں، بشمول دریائے چناب، ستلج اور راوی کے علاوہ متعدد پہاڑی برساتی نالوں میں سیلابی صورتحال کے باعث نظام الاوقات میں تبدیلی کی ضرورت پیش آئی ہے۔

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے بھی رواں ماہ کے دوران ملک بھر میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا الرٹ جاری کیا تھا، جس میں پنجاب کے پوٹھوہار خطے اور دریائے سوان سمیت مختلف علاقوں میں طغیانی کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔

صوبائی حکومت نے مون سون سے قبل ہی اربن فلڈنگ سے نمٹنے کے لیے نالوں کی صفائی اور ڈی سلٹنگ کا گرینڈ پلان بھی ترتیب دیا تھا، تاہم غیر معمولی بارشوں کے باعث بعض علاقے پھر بھی متاثر ہوئے۔

گزشتہ برس بھی اسی نوعیت کی سیلابی صورتحال کے باعث ہزاروں سکول بند کرنا پڑے تھے اور لاکھوں طلبہ کا تعلیمی سلسلہ متاثر ہوا تھا، جس کے بعد متاثرہ طلبہ کو ‘پیف’ اور ‘پیما’ کے زیرِ انتظام سکولوں میں بھیج کر تعلیمی خلا پورا کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں:مون سون بارشوں سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات کی تازہ رپورٹ جاری

پی ڈی ایم اے کی جانب سے اسکولوں کی بندش میں توسیع کی سفارش طلبہ کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ایک محتاط اور ضروری قدم ہے، کیونکہ سیلاب زدہ علاقوں میں کمزور عمارتوں یا زیرِ آب راستوں سے طلبہ کی نقل و حرکت جانی خطرات کا باعث بن سکتی ہے۔

تاہم یہ امر بھی توجہ طلب ہے کہ مسلسل بندش سے طلبہ کا تعلیمی سلسلہ متاثر ہوتا ہے، خصوصاً ایسے علاقوں میں جہاں پہلے ہی تعلیمی معیار اور حاضری کی شرح میں کمی کا مسئلہ درپیش ہے۔ اسی لیے یہ ضروری ہے کہ حکومت متبادل تعلیمی انتظامات، جیسا کہ گزشتہ برس نجی و سرکاری اشتراک سے قائم اداروں میں طلبہ کی منتقلی، کو بروقت اور مؤثر انداز میں نافذ کرے۔

اس کے علاوہ متاثرہ عمارتوں کی بحالی کے اخراجات کا تخمینہ اور خستہ حال عمارتوں کا سروے کروانے کی سفارشات ظاہر کرتی ہیں کہ حکومت اس مسئلے کو صرف عارضی بنیادوں پر نہیں بلکہ طویل مدتی منصوبہ بندی کے ساتھ حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

تاہم اصل چیلنج ان سفارشات پر بروقت عملدرآمد اور فنڈز کی فوری فراہمی ہوگا، کیونکہ ماضی میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ سروے اور تخمینوں کے باوجود بحالی کا عمل خاصی تاخیر کا شکار رہتا ہے۔

Related Articles