میرپور واقعے کے حوالے سے پولیس کا کہنا ہے کہ خود کو پُرامن احتجاج کرنے والا قرار دینے والے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے جتھے میں مسلح افراد بھی شامل تھے، جن کے پاس جدید ہتھیار موجود تھے۔
پولیس کے مطابق ان مسلح افراد کی جانب سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار زخمی ہوئے جبکہ بعض اہلکاروں کی شہادتیں بھی ہوئیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے احتجاج کو پُرامن قرار دیا جا رہا ہے، تاہم حقائق اس کے برعکس ہیں اور سامنے آنے والے شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ احتجاجی جتھے میں ایسے عناصر موجود تھے جو اسلحہ سے لیس تھے۔
یہ بھی پڑھیں:کالعدم ایکشن کمیٹی کے شرپسندوں نے سنائپر گن سے سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا ،ترجمان آزاد کشمیر پولیس
پولیس کے مطابق عوام کی جانب سے بنائی گئی بعض تصاویر سامنے آئی ہیں جن میں سیاہ لباس میں ملبوس دو افراد ریلی کے ساتھ دکھائی دے رہے ہیں، جن کے پاس مبینہ طور پر پسٹل موجود ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ تصاویر موقع پر موجود شہریوں کی جانب سے بنائی گئیں اور بعد میں ان افراد کی نشاندہی بھی کی گئی، پولیس کے مطابق جب اہلکار موقع پر پہنچے تو ابتدائی فائرنگ انہی افراد کی جانب سے کی گئی۔
پولیس کا کہناہے کہ اگر کسی احتجاج میں مسلح افراد شامل ہوں اور وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے خلاف ہتھیار استعمال کریں تو اسے پُرامن سرگرمی قرار نہیں دیا جا سکتا۔


