پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابی عمل پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ میرپور ڈویژن میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت عوامی مینڈیٹ کا ہر ممکن طریقے سے دفاع کرے گی اور جن نشستوں کو دھاندلی کے ذریعے تبدیل کیا گیا انہیں واپس لینے کے لیے تمام قانونی اور سیاسی راستے اختیار کیے جائیں گے۔
قائم مقام صدر آزاد کشمیر چوہدری لطیف اکبر کی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے دعویٰ کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے پاس مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں سے متعلق شواہد موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرپور ڈویژن میں پیپلز پارٹی نے آٹھ نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی تاہم مبینہ دھاندلی کے باعث انتخابی نتائج تبدیل کیے گئے۔
بلاول بھٹو زرداری نے مزید دعویٰ کیا کہ چوہدری یاسین کے حلقے میں 30 پولنگ اسٹیشنز پر قبضہ کیا گیا۔ ہمارے پاس اس حوالے سے ویڈیو شواہد اور متعلقہ انتخابی فارم بھی موجود ہیں۔ کشمیری عوام مسلم لیگ (ن) سے نفرت کرتے ہیں اور انتخابی نتائج میں عوامی رائے کی درست عکاسی نہیں کی گئی۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کوٹلی کے بعض حلقوں میں غیر معمولی پولنگ ٹرن آؤٹ پر بھی سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جن علاقوں میں ماضی میں ووٹنگ کی شرح عموماً 30 سے 40 فیصد کے درمیان رہتی تھی وہاں 99 فیصد ٹرن آؤٹ ظاہر کیا گیا جس کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے الزام عائد کیا کہ بعض مقامات پر بندوق کے زور پر انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام ایسے ہتھکنڈوں کو مسترد کریں گے اور جمہوری عمل پر کسی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر چوہدری لطیف اکبر کو طاقت کے استعمال کے ذریعے انتخاب میں شکست دینے کی کوشش کی گئی تو اس کے نتائج سنگین ہوں گے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ اپنے آئندہ عوامی جلسے میں کشمیر کے مستقبل سے متعلق اہم پیغام دیں گے اور واضح کریں گے کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ صرف کشمیری عوام کا حق ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے خبردار کیا کہ اگر انتخابی عمل سے متعلق اٹھائے گئے اعتراضات کا ازالہ نہ کیا گیا تو اس کے سیاسی اثرات دور رس ہوں گے۔ انہوں نے کہا، “اس وقت سے ڈریں جب پاکستان پیپلز پارٹی یہ کہے کہ ہم یہ الیکشن نہیں مانتے۔”
کالعدم ایکشن کمیٹی کے احتجاج کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ کمیٹی کو احتجاج ختم کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق ایک ٹرتھ کمیشن قائم کیا جا سکتا ہے اور اگر اس کمیشن نے وزیراعظم فیصل راٹھور کو قصوروار قرار دیا تو پاکستان پیپلز پارٹی اس فیصلے کو قبول کرنے کے لیے تیار ہوگی۔