لاہور کے علاقے باغبانپورہ کوٹلی پیر عبدالرحمان میں ایک بوسیدہ تین منزلہ مکان کی چھت گرنے سے ایک ہی خاندان کے 8 افراد جاں بحق اور 6 زخمی ہو گئے، حادثے کے وقت مکان میں 18 سے زیادہ افراد موجود تھے۔
واقعہ کیسے پیش آیا؟
لاہور کے علاقے باغبانپورہ کی کوٹلی پیر عبدالرحمان میں رات گئے ایک دلخراش حادثہ پیش آیا جس نے پورے علاقے کو سوگ میں ڈبو دیا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق ایک بوسیدہ 3 منزلہ مکان کی چھت اچانک زمین بوس ہو گئی، جس کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے 7 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ 6 افراد شدید زخمی ہوئے۔
پولیس اور ریسکیوحکام کے مطابق یہ واقعہ رات 10 بج کر 15 منٹ پر پیش آیا۔ اس وقت مکان میں 18 سے زیادہ افراد موجود تھے جو ملبے تلے دب گئے۔
اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں اور پولیس اہلکار فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے، جبکہ علاقہ مکینوں نے بھی اپنی مدد آپ کے تحت ابتدائی طور پر چند افراد کو ملبے سے نکالا۔
جاں بحق اور زخمی افراد کی تفصیل
میڈیا رپورٹ کے مطابق حادثے میں جاں بحق ہونے والے 8 افراد میں 3 خواتین، 2 بچے اور 2 نوجوان شامل ہیں۔ اب تک جن افراد کی شناخت ہو سکی ہے ان میں 60 سالہ شاہدہ، 52 سالہ ثمینہ، 25 سالہ مجاہد اور صرف 7 سال کا معصوم حماد شامل ہیں۔
زخمی ہونے والے 6 افراد میں ناصر، زاہد، شاہد، صابر، ثانیہ اور سحر شامل ہیں، جنہیں فوری طور پر سروسز ہسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
انتظامیہ کی نقل و حرکت اور ریسکیو آپریشن
حادثے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے کمشنر لاہور اور ڈپٹی کمشنر لاہور نے رات گئے جائے وقوعہ اور اسپتال کا دورہ کیا۔ ڈی سی لاہور کے مطابق خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ملبے کے نیچے مزید 7 سے 8 افراد دبے ہو سکتے ہیں، جس کے پیش نظر آخری فرد کی بازیابی تک ریسکیو آپریشن بلا تعطل جاری رہے گا۔
اس دوران مسلم لیگ (ن) کے ایم پی اے ملک وحید بھی موقع پر موجود رہے، جنہوں نے متاثرہ خاندان کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
پرانی عمارتوں کا بحران
لاہور سمیت پنجاب کے گنجان آباد شہری علاقوں میں بوسیدہ اور خستہ حال عمارتوں کا گرنا کوئی نیا مسئلہ نہیں۔ اندرون شہر اور اس سے ملحقہ علاقوں میں سینکڑوں مکانات کئی دہائیوں پرانے ہیں جن کی بروقت مرمت یا تعمیرِ نو نہیں ہو پاتی۔ مالی مشکلات، ملکیتی تنازعات اور بلدیاتی اداروں کی جانب سے سروے و کارروائی میں تاخیر جیسے عوامل ایسے حادثات کی بنیادی وجوہات میں شمار ہوتے ہیں۔
ماضی میں بھی لاہور کے اندرون شہر میں اسی نوعیت کے کئی واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں جن میں قیمتی جانوں کا نقصان ہوا۔
سانحہ یا مجرمانہ غفلت؟
اس افسوسناک واقعے نے شہری انتظامیہ کی کارکردگی پر ایک بار پھر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایک بوسیدہ 3 منزلہ مکان، جو کسی بھی وقت گر سکتا تھا، کیا اس کی نشاندہی متعلقہ محکموں کو پہلے سے نہیں تھی؟ اگر تھی تو رہائشیوں کو بروقت خبردار کیوں نہ کیا گیا؟
یہ واقعہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ اس نظام کی ناکامی کی علامت ہے جو خطرناک عمارتوں کے سروے اور بروقت کارروائی کا ذمہ دار ہے۔
گنجان آبادی، عمارت کی خستہ حالت اور رات کے وقت گھر میں موجود افراد کی بڑی تعداد نے جانی نقصان کو کئی گنا بڑھا دیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بلدیاتی ادارے وقتاً فوقتاً ایسی عمارتوں کا سروے کریں اور فوری اقدامات اٹھائیں تو ایسے سانحات سے بچا جا سکتا ہے۔
اس کے علاوہ ریسکیو آپریشن میں تاخیر کا نہ ہونا اور انتظامیہ کی فوری موجودگی قابلِ ستائش ہے، تاہم اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ مستقبل میں ایسے حادثات کی روک تھام کے لیے ٹھوس پالیسی بنائی جائے۔